حدیث نمبر: 8516
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: كُنْتُ أَمَرُّ عَلَى دَارِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ سَحَرًا، فَأَسْمَعُهُ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنَّكَ دَعَوْتَنِي فَأَجَبْتُ، وَأَمَرَتْنِي فَأَطَعْتُ وَهَذَا سَحَرٌ فَاغْفِرْ لِي» فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ لَهُ: كَلِمَاتٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُهُنَّ مِنَ السَّحَرِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِهِنَّ، فَقَالَ: «إِنَّ يَعْقُوبَ أَخَّرَ بَنِيهِ إِلَى السَّحَرِ»
ترجمہ

محارب بن دثار کے چچا بیان کرتے ہیں: میں سحری کے وقت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس سے گزرتا تھا تو انہیں یہ کہتے سنتا: ”اے اللہ! تو نے مجھے بلایا تو میں نے لبیک کہا، تو نے مجھے حکم دیا تو میں نے اطاعت کی، اور یہ سحر کا وقت ہے، مجھے بخش دے۔“ ایک بار میں ان سے ملا تو میں نے کہا: میں نے آپ کو سحری کے وقت یہ کلمات کہتے سنا ہے، اور میں نے وہ کلمات انہیں بتائے، تو انہوں نے فرمایا: ”سیدنا یعقوب علیہ السلام نے بھی اپنے بیٹوں (کی معافی کی دعا) کو سحر کے وقت تک مؤخر کیا تھا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8516
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 104، حدیث 8548