المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خطبة ابن مسعود، ومن كلامه باب: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا خطبہ، اور ان کا کلام
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثنا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ: أَتَيْنَا أَبَا وَائِلٍ وَمَعَهُ جَارِيَةٌ يُقَالُ لَهَا: بُرَيْدَةُ، فَقُلْنَا: يَا بُرَيْدَةُ، قُولِي لِأَبِي وَائِلٍ يُحَدِّثُنَا، فَقَالَتْ: أَبَا وَائِلٍ حَدِّثِ الْقَوْمَ بِمَا سَمِعْتَ مِنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَجْمُوعُونَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ يُسْمِعَكُمُ الدَّاعِي وَيَنْفُذُكُمُ الْبَصَرُ، أَلَا وَإِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، قَالَ: وَيَحْسِبُهُ يَتْبَعُهَا، وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ "ابن عون رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ہم ابووائل رحمہ اللہ کے پاس آئے، ان کے ساتھ بریدہ نامی ایک باندی تھی، تو ہم نے کہا: اے بریدہ! ابووائل سے کہو کہ وہ ہمیں حدیث سنائیں۔ اس نے کہا: ابووائل! لوگوں کو وہ حدیث سنائیں جو آپ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔ تو انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا: ”اے لوگو! تم سب ایک ہی میدان میں جمع کیے جاؤ گے، جہاں پکارنے والا تم سب کو سنائے گا اور نظر تم سب کو دیکھ لے گی۔ سن لو! بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ ہی میں بدبخت لکھ دیا گیا“ - راوی کہتے ہیں: اور وہ سمجھتا ہے کہ یہی اس کا انجام ہے - ”اور خوش نصیب وہ ہے جو دوسروں (کے انجام) سے نصیحت پکڑے۔“