المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خطبة ابن مسعود، ومن كلامه باب: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا خطبہ، اور ان کا کلام
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " إِنَّمَا هِي اثْنَانِ الْهَدْيُ وَالْكَلَامُ، فَأَحْسَنُ الْكَلَامِ كَلَامُ اللهِ، وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَلَا وَإِيَّاكُمْ وَالْمُحْدَثَاتِ وَالْبِدَعَ، فَإِنَّ شَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ ضَلَالَةٌ، أَلَا لَا يَطُولَنَّ عَلَيْكُمُ الْأَمَدُ فَتَقْسُوا قُلُوبُكُمُ الْأَمَلَ، مَا هُوَ آتٍ قَرِيبٌ، أَلَا إِنَّ الْبَعِيدَ مَا لَيْسَ آتٍ، أَلَا إِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ، وَشَرَّ الرَّوَايَا رَوَايَا الْكَذِبِ، أَلَا إِنَّ الْكَذِبَ لَا يَصْلُحُ فِي جِدٍّ، وَلَا هَزْلٍ، أَلَا أَنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّهُ يُقَالُ لِلصَّادِقِ: صَدَقَ وَبَرَّ، وَيُقَالُ لِلْكَاذِبِ: كَذَبَ وَفَجَرَ "
وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْعَبْدَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يَكْتُبَ كَذَّابًا، وَيَصْدُقُ حَتَّى يَكْتُبَ صَدِّيقًا - ثُمَّ قَالَ - إِيَّاكُمْ وَالْعَضَهَ، أَتَدْرُونَ مَا الْعَضْهُ؟ النَّمِيمَةُ وَنَقْلُ الْأَحَادِيثِ»سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بات دو ہی چیزوں کی ہے: طریقہ اور کلام۔ سب سے بہتر کلام اللہ کا کلام ہے، اور سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے۔ خبردار! نئی ایجاد کردہ باتوں اور بدعتوں سے بچو، کیونکہ سب سے بری چیز نئی ایجاد کردہ باتیں ہیں، اور ہر نئی ایجاد کردہ چیز گمراہی ہے۔ خبردار! تم پر مدت طویل نہ ہو جائے کہ تمہارے دل امید کی طوالت سے سخت ہو جائیں، جو چیز آنے والی ہے وہ قریب ہے، خبردار! دور وہ ہے جو آنے والی نہیں۔ خبردار! بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ ہی میں بدبخت لکھا جا چکا ہو، اور خوش نصیب وہ ہے جو دوسروں کے حال سے نصیحت پکڑے۔ سب سے بری روایت جھوٹی روایت ہے، خبردار! جھوٹ نہ سنجیدگی میں ٹھیک ہے نہ مذاق میں، خبردار! جھوٹ بدکاری کی طرف لے جاتا ہے، اور بدکاری جہنم کی طرف لے جاتی ہے، اور سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور سچے شخص سے کہا جاتا ہے: ”اس نے سچ کہا اور نیکی کی“، اور جھوٹے سے کہا جاتا ہے: ”اس نے جھوٹ بولا اور بدکاری کی۔“
اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں بہت جھوٹا لکھا جاتا ہے، اور سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق لکھا جاتا ہے“ - پھر فرمایا - ”جھوٹی بہتان تراشی سے بچو، کیا جانتے ہو جھوٹی بہتان تراشی کیا ہے؟ یہ چغل خوری اور باتیں ایک دوسرے تک پہنچانا ہے۔“