حدیث نمبر: 8484
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أُمِّ مُوسَى، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ مَسْعُودٍ أَنْ يَصْعَدَ شَجَرَةً فَيَأْتِيَهُ بِشَيْءٍ مِنْهَا، فَنَظَرَ أَصْحَابُهُ إِلَى حُمُوشَةِ سَاقَيْهِ فَضَحِكُوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يُضْحِكُكُمْ؟ لَرِجْلُ عَبْدِ اللهِ فِي الْمِيزَانِ أَثْقَلُ مِنْ أُحُدٍ»
ترجمہ

راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ایک درخت پر چڑھ کر اس سے کچھ لے آئیں، تو ان کے ساتھیوں نے ان کی پنڈلیوں کی پتلاہٹ دیکھ کر ہنسنا شروع کر دیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کس بات پر ہنسی آتی ہے؟ عبداللہ کا پاؤں میزان میں احد پہاڑ سے بھی بھاری ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8484
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 95، حدیث 8516