حدیث نمبر: 8480
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللهُ بِهِ، وَمَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعِ اللهُ بِهِ، وَمَنْ تَطَاوَلَ تَعَظُّمًا يَخْفِضْهُ اللهُ، وَمَنْ تَوَاضَعَ تَخَشُّعًا يَرْفَعْهُ اللهُ، وَالنَّاسُ مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ» ، قُلْنَا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ قَالَ: «أَمَا الْمُسْتَرِيحُ فَالْمُؤْمِنُ إِذَا مَاتَ اسْتَرَاحَ، وَأَمَّا الْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ فَهُوَ الَّذِي يَظْلِمُ النَّاسَ وَيَغْتَابُهُمْ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو دکھاوا کرتا ہے اللہ اسے (لوگوں کے سامنے) رسوا کرتا ہے، اور جو شہرت چاہتا ہے اللہ اسے (رسوا کر کے) مشہور کرتا ہے، اور جو تکبر سے اونچا ہونا چاہتا ہے اللہ اسے پست کرتا ہے، اور جو عاجزی سے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ اسے بلند کرتا ہے۔ اور بعض لوگ دنیا میں وسعت پاتے ہیں تو آخرت میں تنگی میں ہوں گے، اور بعض دنیا میں تنگی میں ہوتے ہیں تو آخرت میں وسعت پائیں گے، اور بعض دنیا اور آخرت دونوں میں تنگی میں ہوں گے، اور بعض دنیا اور آخرت دونوں میں وسعت پائیں گے۔ اور ایک شخص راحت پانے والا ہے اور دوسرا وہ ہے جس سے راحت پائی جاتی ہے۔“ ہم نے عرض کیا: ”اے ابوعبدالرحمٰن! راحت پانے والا اور جس سے راحت پائی جاتی ہے، اس سے کیا مراد ہے؟“ فرمایا: ”راحت پانے والا تو وہ مومن ہے جو مرنے کے بعد آرام پاتا ہے، اور جس سے راحت پائی جاتی ہے وہ ہے جو لوگوں پر ظلم کرتا اور ان کی غیبت کرتا ہے (اس کی موت سے لوگ اس کے شر سے راحت پاتے ہیں)۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8480
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 94، حدیث 8512