المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8381–8485) باب: (احادیث 8381 تا 8485)
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَيُوسُفُ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهُ: «اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ» فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، اقْرَأُ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: «فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي» ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ حَتَّى بَلَغَ: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا} [النساء: ٤١] فَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ» هَكَذَا رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ وَأَصْحَابُ شُعْبَةَ، وَوَصَلَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ،سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میں آپ کو قرآن پڑھ کر سناؤں جبکہ یہ آپ ہی پر نازل ہوا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پسند ہے کہ میں اسے اپنے سوا کسی اور سے سنوں۔“ چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کو پڑھ کر سنایا، یہاں تک کہ جب اس آیت پر پہنچے: ”پھر کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے“ [سورۃ النساء: 41]، تو رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں بھر آئیں، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی چاہے کہ قرآن کو ویسے ہی پڑھے جیسا وہ نازل ہوا ہے، تو وہ اسے ابن ام عبد کی قراءت کے مطابق پڑھے۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے عمرو بن مرزوق اور شعبہ کے دیگر شاگردوں نے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ سلیمان بن حرب نے اسے متصل سند سے روایت کیا ہے۔