المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن الأسود بن سريع باب: عبدالرحمن بن ابی بکرہ کی سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ بَكَّارٍ السَّعْدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ التَّمِيمِيِّ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي قُلْتُ شِعْرًا أَثْنَيْتُ فِيهِ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَدَحْتُكَ، قَالَ: «أَمَّا مَا أَثْنَيْتَ عَلَى اللهِ فَهَاتِهِ، وَمَا مَدَحْتَنِي بِهِ فَدَعْهُ» فَجَعَلْتُ أُنْشِدُهُ، فَدَخَلَ رَجُلٌ طُوَالٌ أَقْنَى، فَقَالَ لِي: «أَمْسِكْ» فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ: «هَاتِ» فَجَعَلْتُ أُنْشِدُهُ، فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ عَادَ، فَقَالَ لِي: «أَمْسِكْ» فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَ: «هَاتِ» فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا يَا نَبِيَّ اللهِ الَّذِي دَخَلَ قُلْتَ: أَمْسِكْ، وَإِذَا خَرَجَ قُلْتَ: هَاتِ؟ قَالَ: «هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَلَيْسَ مِنَ الْبَاطِلِ فِي شَيْءٍ»سیدنا اسود بن سریع تمیمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اللہ کے نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں نے ایک شعر کہا ہے جس میں اللہ عزوجل کی ثنا کی ہے اور آپ کی تعریف کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ کی ثنا میں کہا ہے وہ سناؤ، اور جو میری تعریف میں کہا ہے وہ چھوڑ دو۔“ میں سنانے لگا تو ایک لمبے قد اور خمیدہ ناک والے شخص داخل ہوئے، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”رک جاؤ۔“ جب وہ چلے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سناؤ۔“ میں پھر سنانے لگا، ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ وہ دوبارہ آ گئے، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”رک جاؤ۔“ جب وہ چلے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سناؤ۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! یہ کون ہیں کہ جب داخل ہوتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں رک جاؤ، اور جب چلے جاتے ہیں تو فرماتے ہیں سناؤ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ عمر بن خطاب ہیں، اور یہ کسی باطل کام میں نہیں۔“