المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حكيم بن حكيم بن عباد بن حنيف، عن عثمان بن أبي العاص باب: حکیم بن حکیم بن عباد بن حنیف کی سیدنا عثمان بن ابی عاص رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: قَدِمْتُ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ حِينَ وَفَدُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَبِسْنَا حُلَلَنَا بِبَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: مَنْ يُمْسِكُ لَنَا رَوَاحِلَنَا، وَكُلُّ الْقَوْمِ أَحَبَّ الدُّخُولَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَرِهَ التَّخَلُّفَ عَنْهُ، قَالَ عُثْمَانُ: وَكُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتُمْ أَمْسَكَتُ لَكُمْ عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمْ عَهْدَ اللهِ لَتُمْسِكُنَّ لِي إِذَا خَرَجْتُمْ، قَالُوا: فَذَلِكَ لَكَ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجُوا فَقَالُوا: انْطَلَقْ بِنَا، قُلْتُ: أَيْنَ؟ فَقَالُوا: إِلَى أَهْلِكَ، فَقُلْتُ: ضَرَبْتُ مِنْ أَهْلِي حَتَّى إِذَا حَلَلْتُ بِبَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْجِعُ وَلَا أَدْخَلُ عَلَيْهِ، وَقَدْ أَعْطَيْتُمُونِي مِنَ الْعَهْدِ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ؟ قَالُوا: فَأَعْجِلْ فَإِنَّا قَدْ كَفَيْنَاكَ الْمَسْأَلَةَ، لَمْ نَدَعْ شَيْئًا إِلَّا سَأَلْنَاهُ عَنْهُ، فَدَخَلْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يُفَقِّهَنِي فِي الدِّينِ وَيُعَلِّمَنِي، قَالَ: «مَاذَا قُلْتَ؟» فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ الْقَوْلَ، فَقَالَ: «لَقَدْ سَأَلْتَنِي شَيْئًا مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ، اذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرٌ عَلَيْهِمْ وَعَلَى مَنْ تَقْدُمُ عَلَيْهِ مِنْ قَوْمِكَ، وَأُمَّ النَّاسَ بِأَضْعَفِهِمْ» فَخَرَجْتُ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَيْهِ مَرَّةً أُخْرَى فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، اشْتَكَيْتُ بَعْدَكَ، فَقَالَ: " ضَعْ يَدَكَ الْيُمْنَى عَلَى الْمَكَانِ الَّذِي تَشْتَكِي، وَقُلْ: أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " فَفَعَلْتُ فَشَفَانِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ…(انہوں نے کہا:) کیا تم نے وہ عہد جان لیا جو تمہیں معلوم ہے؟ انہوں نے کہا: جلدی کرو، ہم نے تمہاری طرف سے سوال کرنے کی ضرورت پوری کر دی ہے، ہم نے کوئی چیز نہیں چھوڑی مگر اس کے بارے میں پوچھ لیا۔ چنانچہ میں (نبی کریم ﷺ کے پاس) اندر گیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول، اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے دین کی سمجھ عطا فرمائے اور مجھے تعلیم دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے کیا کہا؟“ میں نے اپنی بات دہرائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے مجھ سے ایسی چیز مانگی ہے جو تمہارے کسی ساتھی نے مجھ سے نہیں مانگی۔ جاؤ، تم ان پر اور ان پر بھی امیر ہو جن کی طرف تم اپنی قوم میں سے جاؤ، اور لوگوں کی امامت ان کے سب سے کمزور فرد کے حساب سے کرو۔“ چنانچہ میں نکلا، یہاں تک کہ دوبارہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول، آپ سے جدا ہونے کے بعد مجھے ایک تکلیف لاحق ہو گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا دایاں ہاتھ اس جگہ رکھو جہاں تکلیف ہے، اور کہو: میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ لیتا ہوں اس چیز کی برائی سے جو میں محسوس کر رہا ہوں، سات بار۔“ میں نے ایسا ہی کیا تو اللہ عزوجل نے مجھے شفا دے دی۔