المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عثمان بن عامر بن كعب بن سعد بن تيم بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك أبو قحافة " أسلم يوم الفتح، وتوفي سنة أربع عشرة بعد أبي بكر بسنة، وهو ابن سبع وتسعين سنة، وورث أبا بكر هو وأمه سلمى بنت صخر بن عامر بن عمرو بن كعب بن سعد بن تيم بن مرة " باب: سیدنا عثمان بن عامر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک ابوقحافہ رضی اللہ عنہ، فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ایک سال بعد سن 14 ہجری میں ستانوے برس کی عمر میں وفات پائی، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے وارث وہ اور ان کی والدہ سلمیٰ بنت صخر بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بنیں
حدیث نمبر: 8291
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ فُسْتُقَةُ، ثنا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا بُهْلُولُ بْنُ مُوَرِّقٍ الشَّامِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ بِأَبِيهِ أَبِي قُحَافَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُودُهُ، شَيْخٌ أَعْمَى يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَرَكْتَ الشَّيْخَ حَتَّى نَأْتِيَهُ؟» قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ يُؤْجَرَ، وَاللهِ لَأَنَا كُنْتُ بِإِسْلَامِ أَبِي طَالِبٍ أَشَدُّ فَرَحًا مِنِّي بِإِسْلَامِ أَبِي، أَلْتَمِسُ بِذَلِكَ قُرَّةَ عَيْنِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقْتَ»ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے دن اپنے والد ابوقحافہ کو، جو ایک نابینا بزرگ تھے، ہاتھ پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم نے بزرگ کو کیوں نہ چھوڑا کہ ہم خود ان کے پاس آ جاتے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں چاہتا تھا کہ انہیں (اس چلنے کا) اجر ملے۔ اللہ کی قسم، مجھے ابوطالب کے اسلام لانے کی خوشی اپنے والد کے اسلام لانے کی خوشی سے زیادہ تھی، میں اس سے آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک چاہتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا۔“