❮
❯
حدیث نمبر: 8226
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَهْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: أَتَانِي قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ فِي رَمَضَانَ، وَقَدْ رَفَعْتُ يَدَيَّ مِنْ سُحُورِي بِخَوْفِ الصُّبْحِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا عَمَّاهُ، لَوْ كَانَ بَقِيَ عَلَيْكَ مِنَ اللَّيْلِ شَيْءٌ أَدْخَلْتُكَ، فَأَكَلْتَ طَعَامًا عِنْدِي وَشَرَابًا. قَالَ: فَأُدْخِلَ فَدَخَلْنَا، فَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ ثَرِيدًا وَلَحْمًا وَنَبِيذًا، فَأَكَلَ وَشَرِبَ، وَأَكْرَهَنِي، فَأَكَلْتُ مَعَهُ وَشَرِبْتُ وَإِنِّي أَوْجَلُ مِنَ الصُّبْحِ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُوا وَاشْرَبُوا، وَلَا يَهِيدَنَّكُمُ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ، وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَعْتَرِضَ لَكُمُ الْأَحْمَرُ» وَأَشَارَ بِيَدِهِ
ترجمہ

عبداللہ بن نعمان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: رمضان میں قیس بن طلق رحمہ اللہ میرے پاس آئے، جبکہ میں صبح (ہو جانے) کے ڈر سے اپنی سحری سے ہاتھ اٹھا چکا تھا، میں نے ان سے کہا: چچا جان! اگر آپ کے پاس رات کا کچھ حصہ باقی ہوتا تو میں آپ کو اندر لے جاتا اور آپ میرے ہاں کھانا کھاتے اور کچھ پیتے۔ انہوں نے کہا: (اندر) لے چلو، چنانچہ ہم اندر گئے، میں نے ان کے سامنے ثرید، گوشت اور نبیذ پیش کیا، انہوں نے کھایا اور پیا، اور مجھے بھی (کھانے پر) مجبور کیا، تو میں نے ان کے ساتھ کھایا اور پیا جبکہ مجھے صبح ہو جانے کا خدشہ تھا۔ پھر انہوں نے کہا: مجھے میرے والد سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کھاؤ اور پیو، اور تمہیں اوپر اٹھنے والی چمکیلی روشنی (کاذب فجر) دھوکا نہ دے، بلکہ کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ تمہارے سامنے سرخی (صادق فجر) ظاہر ہو جائے۔“ اور آپ ﷺ نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الطاء / حدیث: 8226
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 336، حدیث 8257