❮
❯
حدیث نمبر: 8144
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو جَنَابٍ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قَوْمِ طَارِقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ: إِنِّي بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ، إِذْ مَرَّ رَجُلٌ شَابٌّ عَلَيْهِ حُلَّةٌ مِنْ بُرْدٍ أَحْمَرَ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ تُفْلِحُوا، وَرَجُلٌ خَلْفَهُ يَرْمِيَهِ قَدْ أَدْمَى عُرْقُوبَيْهِ وَسَاقَيْهِ، يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ كَذَّابٌ، فَلَا تُطِيعُوهُ. فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا غُلَامُ بَنِي هَاشِمٍ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا عَمُّهُ عَبْدُ الْعُزَّى، فَلَمَّا هَاجَرَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَأَسْلَمَ النَّاسُ ارْتَحَلْنَا مِنَ الرَّبَذَةِ يَوْمَئِذٍ مَعَنَا ظَعِينَةٌ لَنَا، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ، وَأَدَنَّا حِيطَانَهَا، لَبِسْنَا ثِيَابًا غَيْرَ ثِيَابِنَا إِذَا رَجُلٌ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ الْقَوْمُ؟ قُلْنَا: نَمِيرُ أَهْلَنَا مِنْ تَمْرِهَا، وَلَنَا جَمَلٌ أَحْمَرُ قَائِمٌ مَخْطُومٌ قَالَ: تَبِيعُونِي جَمَلَكُمْ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: بِكَمْ؟ قُلْنَا: بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَمَا اسْتَنْقَصَنَا مِمَّا قُلْنَا شَيْئًا، وَضَرَبَ بِيَدِهِ فَأَخَذَ خِطَامَ الْجَمَلِ، ثُمَّ أَدْبَرَ بِهِ، فَلَمَّا تَوَارَى عَنَّا بِالْحِيطَانِ قُلْنَا: وَاللهِ، مَا صَنَعْنَا شَيْئًا وَبَايَعْنَا مَنْ لَا نَعْرِفُ، قَالَ: تَقُولُ امْرَأَةٌ جَالِسَةٌ لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا كَأَنَّ وَجْهَهُ شَبَهُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَاللهِ لَا يَظْلِمُكُمْ، وَلَا يَحْتَرِيكُمْ وَأَنَا ضَامِنَةٌ لِجَمَلِكُمْ. فَأَتَى رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَيْكُمْ هَذَا تَمْرُكُمْ، فَكُلُوا وَاشْبَعُوا وَاكْتَالُوا، قَالَ: فَأَكَلْنَا وَشَبِعْنَا، وَاكْتَلْنَا، وَاسْتَوْفَيْنَا. ثُمَّ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ، فَأَتَيْنَا الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَسَمِعْنَا مِنْ قَوْلِهِ يَقُولُ: " تَصَدَّقُوا، فَإِنَّ الصَّدَقَةَ خَيْرٌ لَكُمْ. وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ: أَبَاكَ وَأُمَّكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، وَأَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ " فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو يَرْبُوعٍ قَتَلُوا رَجُلًا مِنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَعْدِنَا عَلَيْهِمْ، قَالَ: يَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا إِنَّ أَبًا لَا يَجْنِي عَلَى وَلَدٍ، أَلَا إِنَّ أَبًا لَا يَجْنِي عَلَى وَلَدٍ، أَلَا إِنَّ أَبًا لَا يَجْنِي عَلَى وَلَدٍ» ثَلَاثًا
ترجمہ

طارق بن عبداللہ کی قوم کے ایک آدمی کہتے ہیں: میں سوقِ ذی المجاز میں تھا کہ ایک نوجوان آدمی گزرا جس پر سرخ چادر کا جوڑا تھا، وہ کہہ رہا تھا: اے لوگو! کہو لا الہ الا اللہ، فلاح پاؤ گے، اور اس کے پیچھے ایک آدمی اسے پتھر مار رہا تھا جس نے اس کی ایڑیاں اور پنڈلیاں خون آلود کر دی تھیں، وہ کہہ رہا تھا: اے لوگو! یہ جھوٹا ہے، اس کی اطاعت مت کرو۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ بنی ہاشم کا وہ لڑکا ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ ہے، اور یہ اس کا چچا عبدالعزیٰ ہے۔ پھر جب سیدنا محمد ﷺ مدینہ ہجرت کر گئے اور لوگ مسلمان ہو گئے، تو ہم اسی دن ربذہ سے کوچ کر گئے، ہمارے ساتھ ہماری ایک عورت (اونٹنی پر سوار) بھی تھی، جب ہم مدینہ پہنچے اور اس کے باغات کے قریب ہوئے تو ہم نے اپنے کپڑوں کے علاوہ دوسرے کپڑے پہن لیے، اتنے میں راستے میں ایک آدمی ملا، اس نے کہا: یہ لوگ کہاں سے آ رہے ہیں؟ ہم نے کہا: ہم اپنے گھر والوں کے لیے کھجور کا رسد لینے آئے ہیں، اور ہمارے پاس ایک سرخ اونٹ تھا جو مہار سمیت کھڑا تھا۔ اس نے کہا: کیا تم مجھے اپنا اونٹ بیچو گے؟ ہم نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: کتنے میں؟ ہم نے کہا: اتنے اتنے صاع کھجور میں، تو اس نے ہماری بتائی ہوئی قیمت میں سے کچھ کم نہ کیا، اور اپنے ہاتھ سے اونٹ کی مہار پکڑ لی، پھر اسے لے کر چل دیا، جب وہ باغات کی آڑ میں ہم سے اوجھل ہو گیا تو ہم نے کہا: اللہ کی قسم، ہم نے کچھ اچھا نہیں کیا، ہم نے ایسے شخص سے سودا کر لیا جسے ہم جانتے ہی نہیں۔ ایک بیٹھی ہوئی عورت نے کہا: میں نے ایک ایسا آدمی دیکھا ہے گویا اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند جیسا ہے، اللہ کی قسم! وہ تم پر ظلم نہیں کرے گا اور نہ دھوکہ دے گا، میں تمہارے اونٹ کی ضامن ہوں۔ پھر ایک آدمی آیا اور کہا: میں رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہوں، یہ تمہاری کھجور ہے، کھاؤ، خوب سیر ہو کر کھاؤ، اور ناپ لو۔ کہتے ہیں: ہم نے کھایا اور سیر ہوئے، اور ناپ لیا اور پورا پورا لیا۔ پھر ہم مدینہ میں داخل ہوئے اور مسجد میں آئے، تو دیکھا کہ آپ ﷺ منبر پر خطبہ دے رہے ہیں، ہم نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”صدقہ کرو، کیونکہ صدقہ تمہارے لیے بہتر ہے، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور اپنے زیرِ کفالت لوگوں سے شروع کرو: اپنے باپ، اپنی ماں، اپنی بہن اور اپنے بھائی سے، پھر جو تمہارے قریب تر ہو اس سے۔“ اس پر انصار میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول، ان بنی یربوع نے زمانہ جاہلیت میں ہم میں سے ایک آدمی کو قتل کیا تھا، تو ہمیں ان پر بدلہ لینے دیں۔ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو، باپ کے جرم کی سزا اولاد پر نہیں پڑتی، سن لو، باپ کے جرم کی سزا اولاد پر نہیں پڑتی، سن لو، باپ کے جرم کی سزا اولاد پر نہیں پڑتی۔“ تین بار فرمایا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الطاء / حدیث: 8144
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 314، حدیث 8175