المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الأسود بن خلف الخزاعي باب: سیدنا اسود بن خلف خزاعی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ الْأَسْوَدَ، حَضَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ عِنْدَ قَرْنِ مَسْقَلَةَ - قَالَ: وَقَرْنُ مَسْقَلَةَ مِمَّا يَلِي بُيُوتَ أَبِي ثُمَامَةَ، وَهُوَ الَّذِي مَا أَقْبَلَ مِنْهُ عَلَى دَارِ ابْنِ عَامِرٍ، وَمَا أَدْبَرَ مِنْهُ عَلَى دَارِ ابْنِ سَمُرَةَ وَمَا حَوْلَهَا - قَالَ الْأَسْوَدُ: «فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ، فَجَاءَهُ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ وَالصَّغَارُ وَالْكِبَارُ فَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالشَّهَادَةِ» قُلْتُ: وَمَا الشَّهَادَةُ؟ فَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْأَسْوَدِ قَالَ: «عَلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ»سیدنا اسود بن خلف رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے محمد بن اسود بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد سیدنا اسود رضی اللہ عنہ اس وقت نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر تھے جب آپ ﷺ قرنِ مسقلہ کے پاس لوگوں سے بیعت لے رہے تھے - راوی کہتے ہیں: قرنِ مسقلہ ابوثمامہ کے گھروں کے قریب واقع ہے، یہ وہ جگہ ہے جس کا اگلا حصہ ابن عامر کے گھر کی طرف اور پچھلا حصہ ابن سمرہ کے گھر اور اس کے اردگرد کی طرف ہے - سیدنا اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں نے نبی کریم ﷺ کو لوگوں سے بیعت لیتے دیکھا، مرد، عورتیں، چھوٹے، بڑے سب آپ ﷺ کے پاس آئے اور اسلام اور شہادت پر آپ ﷺ سے بیعت کی۔“ میں نے پوچھا: شہادت کیا ہے؟ تو مجھے محمد بن اسود نے بتایا کہ: ”اس گواہی پر کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔“