حدیث نمبر: 8065
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا ابْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنِسَائِهِ: «لَا تُبْكُوا هَذَا الصَّبِيَّ» - يَعْنِي حُسَيْنًا - قَالَ: وَكَانَ يَوْمَ أُمِّ سَلَمَةَ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّاخِلَ، وَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ: «لَا تَدَعِي أَحَدًا يَدْخُلُ عَلَيَّ» فَجَاءَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ، فَأَخَذَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ، فَاحْتَضَنَتْهُ وَجَعَلَتْ تُنَاغِيهِ وَتُسْكِنُهُ، فَلَمَّا اشْتَدَّ فِي الْبُكَاءِ خَلَّتْ عَنْهُ، فَدَخَلَ حَتَّى جَلَسَ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُ ابْنَكَ هَذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقْتُلُونَهُ وَهُمْ مُؤْمِنُونَ بِي؟» قَالَ: نَعَمْ، يَقْتُلُونَهُ، فَتَنَاوَلَ جِبْرِيلُ تُرْبَةً، فَقَالَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ احْتَضَنَ حُسَيْنًا كَاسِفَ الْبَالِ، مَهْمُومًا، فَظَنَّتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّهُ غَضِبَ مِنْ دُخُولِ الصَّبِيِّ عَلَيْهِ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ، جُعِلْتُ لَكَ الْفِدَاءَ، إِنَّكَ قُلْتَ لَنَا لَا تُبْكُوا هَذَا الصَّبِيَّ، وَأَمَرْتَنِي أَنْ لَا أَدَعَ يَدْخُلُ عَلَيْكَ، فَجَاءَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهَا، فَخَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ جُلُوسٌ، فَقَالَ لَهُمْ: «إِنَّ أُمَّتِي يَقْتُلُونَ هَذَا» . وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَكَانَا أَجْرَأَ الْقَوْمِ عَلَيْهِ، فَقَالَا: يَا نَبِيَّ اللهِ يَقْتُلُونَهُ وَهُمْ مُؤْمِنُونَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَهَذِهِ تُرْبَتُهُ» وَأَرَاهُمْ إِيَّاهَا
ترجمہ

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج سے فرمایا: ”اس بچے کو مت رلاؤ“ — یعنی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو — راوی کہتے ہیں: یہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن تھا، تو سیدنا جبریل علیہ السلام نازل ہوئے، رسول اللہ ﷺ اندر تشریف لے گئے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”کسی کو میرے پاس آنے مت دینا۔“ اتنے میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آ گئے، جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کو گھر میں دیکھا تو اندر آنا چاہا، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں پکڑ لیا اور گود میں لے کر بہلانے اور خاموش کرانے لگیں، جب وہ زور سے رونے لگے تو انہیں چھوڑ دیا، وہ اندر آ گئے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ کی گود میں بیٹھ گئے۔ اس پر سیدنا جبریل علیہ السلام نے فرمایا: تمہاری امت جلد ہی تمہارے اس بیٹے کو قتل کرے گی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ اسے قتل کریں گے جبکہ وہ مجھ پر ایمان رکھنے والے ہوں گے؟“ فرمایا: ہاں، وہ اسے قتل کریں گے۔ پھر سیدنا جبریل علیہ السلام نے مٹی کا ایک ٹکڑا لیا اور فرمایا: فلاں فلاں جگہ کی مٹی ہے۔ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو گود میں اٹھائے ہوئے، رنجیدہ اور غمگین حالت میں۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے سمجھا کہ آپ ﷺ بچے کے اندر آنے پر ناراض ہوئے ہیں، تو عرض کیا: اے اللہ کے نبی، میں آپ پر قربان جاؤں، آپ نے ہمیں کہا تھا کہ اس بچے کو مت رلاؤ، اور مجھے حکم دیا تھا کہ کسی کو اندر آنے نہ دوں، وہ آ گیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ ﷺ نے انہیں کوئی جواب نہ دیا، بلکہ اپنے صحابہ کی طرف نکل گئے جو بیٹھے ہوئے تھے، ان سے فرمایا: ”میری امت اسے قتل کرے گی۔“ اس مجلس میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، اور وہ لوگوں میں سب سے زیادہ جرأت رکھنے والے تھے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی، کیا وہ اسے قتل کریں گے جبکہ وہ مؤمن ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اور یہ رہی اس کی مٹی۔“ اور انہیں وہ مٹی دکھائی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 8065
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 285، حدیث 8096