المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو غالب صاحب المحجن، واسمه حزور باب: ابوغالب صاحب المحجن، جن کا نام حزور تھا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحِنَّائِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا أشعبُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ قَالَ: كُنْتُ بِدِمَشْقَ فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتٍ، فَمَرَّ بِي أَبُو أُمَامَةَ، فَاتَّبَعْتُهُ، فَإِذَا نَحْنُ برُءُوسِ الْخَوَارِجِ عَلَى دَرَجِ الْمَسْجِدِ مَنْصُوبَةً، فَقَالَ: «شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ، وَخَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوهُ» . قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «إِي، وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» مِرَارًا، ثُمَّ بَكَى، فَقُلْتُ: أَتَبْكِي، وَقَدْ قُلْتَ مَا قُلْتَ؟ قَالَ: إِنِّي أَرْحَمُهُمْ قَوْمٌ، أَرَادُوا شَيْئًا، فَلَمْ يُصِيبُوهُ أَمَا إِنَّكَ بِأَرْضٍ هُمْ بِهَا كَثِيرٌ، فَأَعَاذَكَ اللهُ مِنْهُابوغالب بیان کرتے ہیں کہ میں دمشق میں ایک گھر کی چھت پر تھا، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے تو میں ان کے پیچھے ہو لیا، ہم مسجد کی سیڑھیوں پر خارجیوں کے سروں کے پاس پہنچے جو نصب تھے، انہوں نے فرمایا: ”آسمان کے سائے تلے سب سے بدترین مقتول، اور سب سے بہترین مقتول وہ ہیں جنہوں نے انہیں قتل کیا۔“ میں نے عرض کیا: کیا آپ نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ فرمایا: ”ہاں، کعبہ کے رب کی قسم، ہاں کعبہ کے رب کی قسم“ — کئی بار — پھر رونے لگے، تو میں نے عرض کیا: آپ رو رہے ہیں حالانکہ آپ نے یہ بات کہی؟ فرمایا: میں ان پر ترس کھاتا ہوں، یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ایک چیز چاہی مگر اسے نہ پا سکے، سن لو تم ایک ایسی سرزمین میں ہو جہاں یہ لوگ بکثرت ہیں، پس اللہ تمہیں ان سے محفوظ رکھے۔