المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو غالب صاحب المحجن، واسمه حزور باب: ابوغالب صاحب المحجن، جن کا نام حزور تھا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ الْجَوْهَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَبُو غَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ بِالشَّامِ، فَبَعَثَ الْمُهَلَّبُ سَبْعِينَ رَأْسًا مِنَ الْخَوَارِجِ، فَنُصِبُوا عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، وَكُنْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لِي، فَمَرَّ أَبُو أُمَامَةَ يُرِيدُ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِمْ دَمِعَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ: «سُبْحَانَ اللهِ، مَا يَفْعَلُ الشَّيْطَانُ بِبَنِي آدَمَ» - ثَلَاثًا - قَالَ: «كِلَابُ جَهَنَّمَ شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ» - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - ثُمَّ قَالَ: «خَيْرُ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ مَنْ قَتَلُوهُ» - ثَلَاثًا - ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: «يَا أَبَا غَالِبٍ، إِنَّكَ بِأَرْضِ هَؤُلَاءِ بِهَا كَثِيرٌ، فَأَعَاذَكَ اللهُ مِنْهُمْ. هَلْ تَقْرَأُ السُّورَةَ الَّتِي فِيهَا آلُ عِمْرَانَ؟» قُلْتُ: بَلَى، إِنِّي رَأَيْتُكَ دَمِعَتْ عَيْنَاكَ. قَالَ: «بَكَيْتُ رَحْمَةً لَهُمْ، كَانُوا مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ» فَتَلَا: {هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ} [آل عمران: ٧] إِلَى أَنْ بَلَغَ: {ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ} [آل عمران: ٧] وَإِنَّ هَؤُلَاءِ كَانَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ، فَزِيغَ بِهِمْ، ثُمَّ تَلَا: {وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا} [آل عمران: ١٠٥] إِلَى أَنْ بَلَغَ: {أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ} [آل عمران: ١٠٦] قُلْتُ: هَؤُلَاءِ يَا أَبَا أُمَامَةَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . قُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ مِنْ قِبَلِ رَأْيِكَ تَقُولُ، أَمْ شَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «إِنِّي لَجَرِيءٌ - ثَلَاثًا - بَلْ شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا مَرَّةً، وَلَا مَرَّتَيْنِ حَتَّى بَلَغَ سِتَّةً»
ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً - أَوْ قَالَ: اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً - وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ سَتَزِيدُ عَلَيْهِمْ فِرْقَةً كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ " قُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ أَلَا تَرَاهُمْ مَا يَعْمَلُونَ؟ قَالَ: «عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا، وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ إِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا»ابوغالب بیان کرتے ہیں کہ مہلب نے خارجیوں کے ستر سر بھیجے، وہ مسجد کے دروازے پر نصب کر دیے گئے، میں اپنے گھر کی چھت پر تھا، اتنے میں سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ مسجد کا ارادہ کیے وہاں سے گزرے، جب ان کے پاس رکے تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، فرمایا: ”سبحان اللہ، شیطان بنی آدم کے ساتھ کیا کرتا ہے“ — تین بار — فرمایا: ”جہنم کے کتے آسمان کے سائے تلے سب سے بدترین مقتول ہیں“ — تین بار — پھر فرمایا: ”آسمان کے سائے تلے سب سے بہترین مقتول وہ ہیں جنہوں نے انہیں قتل کیا“ — تین بار — پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے ابوغالب، تم انہی لوگوں کی سرزمین میں ہو، یہاں یہ بکثرت ہیں، پس اللہ تمہیں ان سے محفوظ رکھے۔ کیا تم وہ سورت پڑھتے ہو جس میں آلِ عمران ہے؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ فرمایا: ”میں ان پر ترس کھا کر رویا، یہ اہلِ اسلام میں سے تھے۔“ پھر تلاوت کی: ”وہی ہے جس نے تجھ پر کتاب نازل کی، اس میں سے کچھ آیات محکم ہیں“ [آل عمران: 7] یہاں تک کہ ”فتنہ کی تلاش اور اس کی من چاہی تاویل کی تلاش میں“ [آل عمران: 7] تک پہنچے، اور فرمایا: ان لوگوں کے دلوں میں کجی تھی، تو اللہ نے انہیں کجی میں ڈال دیا۔ پھر تلاوت کی: ”اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو تفرقے میں پڑ گئے“ [آل عمران: 105] یہاں تک کہ ”کیا تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہو گئے“ [آل عمران: 106] تک پہنچے۔ میں نے عرض کیا: اے ابوامامہ، کیا یہی وہ لوگ ہیں؟ فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا: اے ابوامامہ، کیا یہ بات آپ اپنی رائے سے کہتے ہیں یا رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی؟ فرمایا: ”میں تو ایسی جسارت نہیں کر سکتا“ — تین بار — ”بلکہ یہ بات میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک یا دو بار نہیں بلکہ چھ بار سنی ہے۔“
پھر فرمایا: ”بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے — یا فرمایا: بہتر فرقوں میں — اور یہ امت ان سے ایک فرقہ زیادہ ہو جائے گی، سب جہنم میں جائیں گے سوائے سب سے بڑی جماعت (سوادِ اعظم) کے۔“ میں نے عرض کیا: اے ابوامامہ، کیا آپ نہیں دیکھتے یہ کیا کر رہے ہیں؟ فرمایا: ”ان پر وہی ذمہ داری ہے جو ان پر ڈالی گئی، اور تم پر وہی ذمہ داری ہے جو تم پر ڈالی گئی، اگر تم اس کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے۔“