❮
❯
حدیث نمبر: 7961
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جَمِيلٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ الْبَاهِلِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكَمِ بْنِ فَضَالَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ حِمْصٍ، فَإِذَا فِيهِ أَبُو أُمَامَةَ يَتَفَلَّى فِيهِ، وَيَدْفِنُ الْقَمْلَ فِيهِ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَبَّحَ ثَلَاثًا، وَكَبَّرَ ثَلَاثًا، وَحَمِدَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: خَفِيفَاتٌ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَاتٌ فِي الْمِيزَانِ تَصْعَدْنَ إِلَى الرَّحْمَنِ. فَقُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ، أَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، وَإِنَّ الْمُصَّدِّقِينَ كَانُوا يَتَعَدَّوْنَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: الصَّدَقَةُ حَقٌّ، وَتباعها فِي النَّارِ، قَوْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَصَّرَ أَوْ تَعَدَّى جِيئُوا بِالْمَالِ وَافِدًا، وَلَا تُغَيِّبُوا مِنْهَا فَتَخْبِثُوا مَا غَيَّبْتُمْ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَلَا تَسُبُّوهُمْ، وَاسْتَعِيذُوا بِاللهِ مِنْ شَرِّهِمْ»
ترجمہ

حکم بن فضالہ کہتے ہیں: میں مسجدِ حمص میں داخل ہوا تو دیکھا کہ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ اس میں (اپنے کپڑوں سے) جوئیں نکال رہے ہیں اور انہیں اس میں دفن کر رہے ہیں، تو میں ان کے پاس بیٹھ گیا، انہوں نے تین بار سبحان اللہ کہا، تین بار اللہ اکبر کہا اور تین بار الحمدللہ کہا، پھر فرمایا: یہ کلمے زبان پر ہلکے اور میزان میں بھاری ہیں، رحمن کی طرف چڑھتے ہیں۔ میں نے کہا: اے ابوامامہ! میں دیہات (بادیہ) میں رہنے والوں میں سے ہوں، اور صدقہ وصول کرنے والے ہم پر زیادتی کیا کرتے تھے، تو انہوں نے فرمایا: ”صدقہ حق ہے، اور اس کے کارندے (وصول کرنے والے) جہنم میں جائیں گے۔“ یہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ”چاہے وصول کرنے والا کمی کرے یا زیادتی، تم اپنا مال خوش دلی سے لے آؤ، اور اس میں سے کچھ چھپاؤ مت کہ جو چھپاؤ گے وہ ناپاک ہو جائے گا، اور جب تم انہیں (زیادتی کرتے) دیکھو تو انہیں برا بھلا مت کہو، اور ان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7961
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 254، حدیث 7992