حدیث نمبر: 7942
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَذَاهُ حَرُّ الشَّمْسِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ مَكَثُوا، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَتَقَدَّمَ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا صَلَّى بِهِمْ قَالَ: «إِذَا رَقَدَ أَحَدُكُمْ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَلْيَفْعَلْ هَكَذَا، فَإِنَّ اللهَ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا، وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا»
ترجمہ

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت تک نیند سے بیدار نہ ہوئے جب تک سورج کی گرمی نے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان تکلیف نہ دی، جب آپ ﷺ بیدار ہوئے تو لوگ کچھ دیر ٹھہرے رہے، پھر آپ ﷺ نے نماز کھڑی کروائی اور آگے بڑھ کر انہیں نماز پڑھائی۔ جب نماز پڑھا چکے تو فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو نیند آئے اور اس کی آنکھیں غالب آ جائیں تو وہ ایسے ہی کرے، کیونکہ اللہ روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے، اور جو نہیں مرتی اسے اس کی نیند میں (عارضی طور پر) قبض کرتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7942
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 248، حدیث 7973