المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو عبد الرحيم خالد بن أبي يزيد، عن أبي عبد الملك علي بن يزيد، عن القاسم باب: ابوعبدالرحیم خالد بن ابی یزید کی ابوعبدالملک علی بن یزید کے واسطے سے قاسم سے روایات
حدیث نمبر: 7872
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَذَّاءُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: جَاءَتْ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ بَذِيئَةُ اللِّسَانِ قَدْ عُرِفَ ذَلِكَ مِنْهَا، وَبَيْنَ يَدَيْهِ قَدِيدٌ يَأْكُلُهُ، فَأَخَذَ قَدِيدَةً فِيهَا عَصَبٌ، فَأَلْقَاهَا إِلَى فِيهِ، فَهُوَ يَلُوكُهَا مَرَّةً عَلَى جَانِبِهِ هَذَا، وَمَرَّةً عَلَى جَانِبِهِ الْآخَرِ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَلَا تُطْعِمُنِي؟ قَالَ: «بَلَى» . فَنَاوَلَهَا مِمَّا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَتْ: لَا، إِلَّا الَّذِي فِي فِيكَ، فَأَخْرَجَهُ فَأَعْطَاهَا، فَأَخَذَتْهُ فَأَلْقَتْهُ إِلَى فَمِهَا، فَلَمْ تَزَلْ تَلُوكُهُ حَتَّى ابْتَلَعَتْهُ، فَلَمْ يُعْلَمْ مِنْ تِلْكَ الْمَرْأَةِ بَعْدَ ذَلِكَ الْأَمْرِ الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْبِذَاءِ وَالذِّرَابَةِترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”…آپ ﷺ نے رگ والا ایک سوکھا گوشت کا ٹکڑا لیا اور اسے اپنے منہ میں ڈال لیا، اسے کبھی اس طرف چباتے، کبھی دوسری طرف۔ تو اس عورت نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ مجھے نہیں کھلائیں گے؟ فرمایا: ”کیوں نہیں۔“ تو آپ ﷺ نے اسے اپنے سامنے کی چیز میں سے دیا، اس نے کہا: نہیں، بلکہ وہی جو آپ کے منہ میں ہے۔ تو آپ ﷺ نے وہی نکال کر اسے دیا، اس نے لے کر اپنے منہ میں ڈال لیا اور چباتی رہی یہاں تک کہ نگل لیا۔ اس واقعے کے بعد اس عورت سے وہ بدزبانی اور تیزی جو اس میں پہلے تھی، کبھی معلوم نہ ہوئی۔