المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو عبد الرحيم خالد بن أبي يزيد، عن أبي عبد الملك علي بن يزيد، عن القاسم باب: ابوعبدالرحیم خالد بن ابی یزید کی ابوعبدالملک علی بن یزید کے واسطے سے قاسم سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَذَّاءُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، تَبْكِي عَلَى هَذَا السَّخْلِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ دَفَنْتُ اثْنَيْ عَشَرَ وَلَدًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ كُلُّهُمْ آسَفُ مِنْهُ، كُلُّهُمْ أَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ أَحْيَاءَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا ذَاكَ بِأَنْ كَانَتِ الرَّحْمَةُ ذَهَبَتْ مِنْكَ، يَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَتَدْمَعُ الْعَيْنُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَلَا نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ، وَإِنَّا عَلَى إِبْرَاهِيمَ لَمَحْزُونُونَ»سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت آیا جب سیدنا ابراہیم (آپ ﷺ کے صاحبزادے) کا انتقال ہوا اور آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ اس بچے پر روتے ہیں؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! میں نے زمانہ جاہلیت میں بارہ بچے دفن کیے، ان میں سے ہر ایک اس سے بڑھ کر افسوس کے لائق تھا، ان سب کو میں زندہ ہی مٹی میں دبا دیتا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو صرف اس لیے تھا کہ تم سے رحمت اٹھ چکی تھی، دل غمگین ہوتا ہے اور آنکھ ابراہیم پر آنسو بہاتی ہے، اور ہم وہ بات نہیں کہتے جو رب کو ناراض کرے، اور ہم ابراہیم پر ضرور غمگین ہیں۔“