المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عثمان بن أبي العاتكة، عن علي بن يزيد باب: عثمان بن ابی عاتکہ کی علی بن یزید سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حَفْصٍ الْقَاصُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: أَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ أَعْمَى، وَهُوَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ: {عَبَسَ وَتَوَلَّى أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى} [عبس: ٢] ، وَكَانَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَنَا كَمَا تَرَانِي قَدْ كَبِرَتْ سِنِّي، وَرَقَّ عَظْمِي، وَذَهَبَ بَصَرِي، وَلِي قَائِدٌ لَا يُلَاوِمُنِي قِيَادَةَ إِيَّايَ، فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ رُخْصَةٍ أُصَلِّي فِي بَيْتِي الصَّلَوَاتِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ؟» قَالَ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَجِدُ لَكَ مِنْ رُخْصَةٍ، وَلَوْ يَعْلَمُ هَذَا الْمُتَخَلِّفُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْجَمَاعَةِ مَا لِهَذَا الْمَاشِي إِلَيْهَا لَأَتَاهَا، وَلَوْ حَبْوًا عَلَى يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ»سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے، وہ نابینا تھے، اور وہی ہیں جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ”انہوں نے تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا کہ ان کے پاس ایک نابینا آدمی آیا“ [سورۃ عبس: 2]، وہ قریش کے ایک آدمی تھے، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں میری عمر بڑھ چکی ہے، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں، میری بینائی جا چکی ہے، اور میرا ایک راہنما ہے جو مجھے (مسجد تک) لے جانے میں میرا ساتھ موافق نہیں دیتا، تو کیا آپ میرے لیے کوئی رخصت پاتے ہیں کہ میں اپنے گھر میں نمازیں پڑھ لوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اپنے گھر سے اذان سن سکتے ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں، یا رسول اللہ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا، اور اگر یہ جماعت میں نماز سے پیچھے رہنے والا شخص جان لے کہ نماز کی طرف چل کر جانے والے کے لیے کیا اجر ہے، تو وہ ضرور اس میں آئے، خواہ اسے اپنے ہاتھوں اور پیروں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔“