المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يحيى بن أيوب المصري، عن عبيد الله بن زحر، عن علي بن يزيد، عن القاسم، عن أبي أمامة الباهلي باب: یحییٰ بن ایوب مصری کی عبیداللہ بن زحر، علی بن یزید اور قاسم کے واسطے سے ابواُمامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا جَالِسٌ وَعِنْدَهُ امْرَأَةٌ، إِذْ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَحْسِبُكُنَّ تُخْبِرْنَ بِمَا يَفْعَلُ بِكُنَّ أَزْوَاجُكُنَّ» . قَالَتْ: إِي وَاللهِ، بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا لَنَفْتَخِرُ بِذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَا تَفْعَلَنَّ، فَإِنَّ اللهَ يَمْقُتُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ»
قَالَ لَهَا: «إِنِّي لَأَحْسِبُ إِحْدَاكُنَّ إِذَا أَتَاهَا زَوْجُهَا لَيَكْشِفَانِ عَنْهُمَا اللِّحَافَ، يَنْظُرُ أَحَدُهُمَا إِلَى عَوْرَةِ صَاحِبِهِ كَأَنَّهُمَا حِمَارَانِ» . قَالَتْ: إِي وَاللهِ، بِأَبِي وَأُمِّي، إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ. قَالَ: «فَلَا تَفْعَلُوا ذَلِكَ، فَإِنَّ اللهَ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ»سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک دن رسول اللہ ﷺ بیٹھے تھے اور آپ ﷺ کے پاس ایک عورت موجود تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ تم عورتیں یہ بتاتی ہو کہ تمہارے شوہر تمہارے ساتھ (ازدواجی تعلق میں) کیا کرتے ہیں۔“ اس نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ، ہم تو اس پر فخر کرتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا ہرگز نہ کرو، کیونکہ اللہ اس کام کو کرنے والے سے سخت ناراض ہوتا ہے۔“
آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ تم میں سے کوئی جب اس کا شوہر اس کے پاس آتا ہے تو دونوں لحاف ہٹا دیتے ہیں، ایک دوسرے کی شرمگاہ کو یوں دیکھتے ہیں گویا وہ دو گدھے ہوں۔“ اس نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ہم ایسا کرتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، کیونکہ اللہ اس پر سخت ناراض ہوتا ہے۔“