حدیث نمبر: 7798
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ أَغْبَطَ النَّاسِ عِنْدِي مُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَالِ، أَوِ الْحَاذِ ذُو حَظٍّ مِنَ الصَّلَاةِ، وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَأَطَاعَهُ فِي السِّرِّ، وَكَانَ غَامِضًا فِي النَّاسِ، لَا يُشَارُ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ ذُو كَفَافٍ وَصَبْرٍ عَلَى ذَلِكَ» ، ثُمَّ نَقَدَ بِيَدِهِ، فَقَالَ: «عَجَلَتْ مَنِيَّتُهُ، وَقَلَّتْ بَوَاكِيهِ، وَقَلَّ تُرَاثُهُ»
ترجمہ

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے نزدیک سب سے زیادہ رشک کے قابل وہ مومن ہے جو ہلکے پھلکے حال والا ہو، نماز میں اچھا حصہ رکھتا ہو، اپنے رب کی عبادت خوب کرتا ہو اور چھپ کر اس کی اطاعت کرتا ہو، لوگوں میں گمنام ہو، اس کی طرف انگلیاں نہ اٹھائی جاتی ہوں، بس گزارے لائق رزق پر قناعت اور صبر کرنے والا ہو۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں سے چٹکی بجائی اور فرمایا: ”اس کی موت جلد آ جاتی ہے، اس پر رونے والے کم ہوتے ہیں، اور اس کی وراثت بھی کم ہوتی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7798
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 205، حدیث 7829