حدیث نمبر: 7777
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُطَّرِحِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَاسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ، فَرَأَى نُخَاعَةً فِي الْقِبْلَةِ، فَخَلَعَ نَعْلُهُ، ثُمَّ مَشَى إِلَيْهَا فَحَتَّهَا، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ يُوَجِّهُهُ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّهُ فِي مَقَامٍ عَظِيمٍ بَيْنَ يَدَيْ رَبٍّ عَظِيمٍ يَسْأَلُ أَمْرًا عَظِيمًا الْفَوْزَ بِالْجَنَّةِ، وَالنَّجَاةِ مِنَ النَّارِ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّهُ يَقُومُ بَيْنَ يَدَيِ اللهِ مُسْتَقْبِلَ رَبِّهِ وَمَلِكُهُ عَنْ يَمِينِهِ وَقَرِينُهُ عَنْ يَسَارِهِ، فَلَا يَتْفِلَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ قَدْمِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ لِيَعْرُكْ فَلْيُشَدِّدْ عَرْكَهُ، فَإِنَّمَا يَعْرُكُ أُذُنِيِّ الشَّيْطَانِ، وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ إِذَا تَكَشَّفَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ الْحُجُبُ، أَوْ يُؤْذَنُ فِي الْكَلَامِ شَكَا مِمَّا يَلْقَى مِنْ ذَلِكَ»
ترجمہ

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”…نبی کریم ﷺ نے قبلے کی سمت میں بلغم دیکھا، تو اپنی جوتی اتاری، پھر اس کی طرف چل کر اسے رگڑ کر صاف کیا، ایسا آپ ﷺ نے تین بار کیا، پھر جب نماز مکمل کر لی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”لوگو! تم میں سے کوئی جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ ایک بہت بڑے رب کے سامنے ایک بہت بڑے مقام پر کھڑا ہوتا ہے، ایک بہت بڑی چیز — جنت کی کامیابی اور جہنم سے نجات — مانگ رہا ہوتا ہے۔ اور تم میں سے کوئی جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اللہ کے سامنے، اپنے رب کی طرف رخ کیے کھڑا ہوتا ہے، اس کا فرشتہ اس کی دائیں طرف اور اس کا ساتھی (شیطان) اس کی بائیں طرف ہوتا ہے، سو تم میں سے کوئی اپنے سامنے یا اپنی دائیں طرف نہ تھوکے، بلکہ اپنی بائیں طرف، اپنے بائیں پاؤں کے نیچے (تھوکے)، پھر اسے رگڑ دے اور خوب رگڑے، کیونکہ وہ دراصل شیطان کے دونوں کانوں کو رگڑ رہا ہوتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا! جب تمہارے اور اس کے درمیان پردے اٹھا دیے جائیں گے، یا اسے بولنے کی اجازت دی جائے گی، تو وہ اس سے جو تکلیف اٹھاتا ہے اس کی شکایت کرے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7777
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 199، حدیث 7808