المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن عمر ووفاته، وفي سنه اختلاف رضي الله عنه باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات، اور آپ کی عمر میں اختلاف
حدیث نمبر: 77
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرِ بْنِ الْبَحْتَرِيِّ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أَرْسَلُوا إِلَى طَبِيبٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَقَاهُ لَبَنًا، فَخَرَجَ اللَّبَنُ أَبْيَضَ مِنَ الطَّعْنَةِ الَّتِي تَحْتَ السُّرَّةِ، فَقَالَ لَهُ الطَّبِيبُ: اعْهَدْ عَهْدَكَ فَمَا أَرَاكَ تُمْسِي، فَقَالَ: صَدَقَنِي "ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تو لوگوں نے ایک طبیب کو بلا بھیجا، انصار کا ایک آدمی آیا اور انہیں دودھ پلایا، تو دودھ ناف کے نیچے کے زخم سے سفید حالت میں نکل آیا، طبیب نے کہا: اپنی وصیت کر لیجیے، مجھے نہیں لگتا کہ آپ شام تک زندہ رہیں گے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس نے مجھ سے سچ کہا۔“