❮
❯
حدیث نمبر: 769
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو طَرَفَةَ عَبَّادُ بْنُ الرَّيَّانِ اللَّخْمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ لُدَيْنٍ، قَاضِي النَّاسِ مَعَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا لَيْلَى الْأَشْعَرِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو ذَرٍّ، قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا دَعَانِي إِلَى الْإِسْلَامِ أَنَّا كُنَّا قَوْمًا عُرُبًا فَأَصَابَتْنَا السَّنَةُ، فَحَمَلْتُ أُمِّي وَأَخِي، وَكَانَ اسْمُهُ أُنَيْسًا إِلَى أَصْهَارٍ لَنَا بِأَعْلَى نَجْدٍ، فَلَمَّا حَلَلْنَا بِهِمْ أَكْرَمُونَا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ مَشَى إِلَى خَالِي، فَقَالَ: تَعْلَمُ أَنَّ أُنَيْسًا يُخَالِفُكَ إِلَى أَهْلِكَ؟ فَحَزَّ فِي قَلْبِهِ، فَانْصَرَفَ مِنْ رَعِيَّةِ إِبِلِي، فَوَجَدْتُهُ كَئِيبًا يَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا بُكَاؤُكَ يَا خَالُ؟ فَأَعْلَمَنِي الْخَبَرَ، فَقُلْتُ: حَجَزَ اللهُ مِنْ ذَلِكَ، إِنَّا نَعَافُ الْفَاحِشَةَ، وَإِنْ كَانَ الزَّمَانُ قَدْ أَحَلَّ بِنَا، وَلَقَدْ كَدَّرْتَ عَلَيْنَا صَفْوَ مَا أَبْدَأْتَنَا بِهِ، وَلَا سَبِيلَ إِلَى اجْتِمَاعٍ، فَاحْتَمَلْتُ أُمِّي وَأَخِي حَتَّى نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَكَّةَ، فَقَالَ أَخِي: إِنِّي مُدَافِعٌ رَجُلًا شَاعِرًا، فَقُلْتُ: لَا تَفْعَلْ، فَخَرَجَ بِهِ اللَّجَّاجُ حَتَّى دَافَعَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ صِرْمَتَهُ إِلَى صِرْمَتِهِ، وَايْمُ اللهِ لَدُرَيْدٌ يَوْمَئِذٍ أَشْعَرُ مِنْ أَخِي، فَتَقَاضَيَا إِلَى خَنْسَاءَ، فَفَضَّلَتْ أَخِي عَلَى دُرَيْدٍ وَذَاكَ أَنَّ دُرَيْدًا خَطَبَهَا إِلَى أَبِيهَا، فَقَالَتْ: شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، فَحَقَدَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَضَمَمْنَا صِرْمَتَهُ إِلَى صِرْمَتِنَا، فَكَانَتْ لَنَا هَجْمَةٌ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ مَكَّةَ فَابْتَدَأْتُ بِالصَّفَا فَإِذَا عَلَيْهَا رِجَالَاتُ قُرَيْشٍ، وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ بِهَا صَابِئًا، أَوْ مَجْنُونًا، أَوْ شَاعِرًا، أَوْ سَاحِرًا، فَقُلْتُ: أَيْنَ هَذَا الَّذِي تَزْعُمُونَهُ؟ قَالُوا: هَا هُوَ ذَاكَ حَيْثُ تَرَى، فَانْقَلَبْتُ إِلَيْهِ فَوَاللهِ مَا جُزْتُ عَنْهُمْ قَيْسَ حَجَرٍ حَتَّى أَكَبُّو عَلَى كُلِّ عَظْمٍ وَحَجَرٍ وَمَدَرٍ، فَضَرَّجُونِي بِدَمِي، فَأَتَيْتُ الْبَيْتَ فَدَخَلْتُ بَيْنَ السُّتُورِ وَالْبِنَاءِ، وَصَوِّمْتُ فِيهِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا لَا آكُلُ وَلَا أَشْرَبُ إِلَّا مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ قَمْرَاءُ أُضْحِيَانُ، أَقْبَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ خُزَاعَةَ فَطَافَتَا بِالْبَيْتِ، ثُمَّ ذَكَرَتَا إِسَافَ، وَنَائِلَةَ، وَهُمَا وَثَنَانِ كَانُوا يَعْبُدُونَهُمَا، فَأَخْرَجْتُ رَأْسِي مِنْ تَحْتِ السُّتُورِ، فَقُلْتُ: احْمِلَا أَحَدَهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ، فَغَضِبَتَا، ثُمَّ قَالَتَا: أَمْ وَاللهِ لَوْ كَانَتْ رِجَالُنَا حُضُورًا مَا تَكَلَّمْتَ بِهَذَا، ثُمَّ وَلَّتَا، فَخَرَجْتُ أَقْفُو آثَارَهُمَا حَتَّى لَقِيَتَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا أَنْتُمَا، وَمِنْ أَيْنَ أَنْتُمَا، وَمِنْ أَيْنَ جِئْتُمَا، وَمَا جَاءَ بِكُمَا» فَأَخْبَرَتَاهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: «أَيْنَ تَرَكْتُمَا الصَّابِئَ؟» فَقَالَتَا: تَرَكْنَاهُ بَيْنَ السُّتُورِ وَالْبِنَاءِ. فَقَالَ لَهُمَا: «هَلْ قَالَ لَكُمَا شَيْئًا؟» قَالَتَا: نَعَمْ، كَلِمَةً تَمْلَأُ الْفَمَ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ انْسَلَّتَا، وَأَقْبَلْتُ حَيْثُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عِنْدَ ذَلِكَ. فَقَالَ: «مَنْ أَنْتَ، وَمِمَّنْ أَنْتَ، وَمِنْ أَيْنَ أَنْتَ، وَمِنْ أَيْنَ جِئْتَ، وَمَا جَاءَ بِكَ؟» فَأَنْشَأْتُ أُعْلِمُهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: «مِنْ أَيْنَ كُنْتَ تَأْكُلُ وَتَشْرَبُ؟» فَقُلْتُ: مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُ طَعَامُ طُعْمٍ» وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ائْذَنْ لِي أَنْ أُعَشِّيَهَ، قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، وَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِيَدِي حَتَّى وَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَابِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ بَيْتَهُ، ثُمَّ أَتَى بِزَبِيبٍ مِنْ زَبِيبِ الطَّائِفِ، فَجَعَلَ يُلْقِيهِ لَنَا قَبْضًا قَبْضًا وَنَحْنُ نَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى تَمَلَّأْنَا مِنْهُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ» فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ. فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ رُفِعَتْ لِي أَرْضٌ وَهِيَ ذَاتُ مَاءٍ لَا أَحْسَبُهَا إِلَّا تِهَامَةَ، فَاخْرُجْ إِلَى قَوْمِكَ فَادْعُهُمْ إِلَى مَا دَخَلْتَ فِيهِ» قَالَ: فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ أُمِّي وَأَخِي فَأَعْلَمْتُهُمَا الْخَبَرَ، فَقَالَا: مَا بِنَا رَغْبَةٌ عَنِ الدِّينِ الَّذِي دَخَلْتَ فِيهِ فَأَسْلَمَا، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ فَأَعْلَمْتُ قَوْمِي، فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ صَدَّقْنَاكَ، وَلَكِنْ نَلْقَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِينَاهُ، فَقَالَتْ لَهُ غِفَارٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا ذَرٍّ أَعْلَمَنَا مَا أَعْلَمْتَهُ، وَقَدْ أَسْلَمْنَا وَشَهِدْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَقَدَّمَتْ أَسْلَمُ وَخُزَاعَةُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا قَدْ رَغِبْنَا وَدَخَلْنَا فِيمَا دَخَلَ فِيهِ إِخْوَانُنَا وَحُلَفَاؤُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللهُ لَهَا» ثُمَّ أَخَذَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِيَدِي، فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ: هَلْ كُنْتَ تَأْلَهُ فِي جَاهِلَيَّتِكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقُومُ عِنْدَ الشَّمْسِ وَلَا أَزَالُ مُصَلِّيًا حَتَّى يُؤْذِيَنِي حَرُّهَا، فَأَخِرَّ كَأَنِّي خِفَاءٌ، فَقَالَ لِي: فَأَيْنَ كُنْتَ تَوَجَّهُ؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي إِلَّا حَيْثُ وَجَّهَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى أَدْخَلَ اللهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ "
ترجمہ

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے سب سے پہلے جس چیز نے اسلام کی طرف مائل کیا وہ یہ تھی کہ ہم عرب لوگ تھے، تو ہم پر قحط کا سال آیا، چنانچہ میں اپنی والدہ اور بھائی کو، جن کا نام انیس تھا، لے کر نجد کے بالائی علاقے میں اپنے سسرالی رشتہ داروں کے پاس گیا، جب ہم ان کے ہاں ٹھہرے تو انہوں نے ہماری عزت افزائی کی، جب قبیلے کے ایک شخص نے یہ دیکھا تو وہ میرے ماموں کے پاس گیا اور کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ انیس تمہاری غیر موجودگی میں تمہارے گھر والوں کے پاس آتا جاتا ہے؟ یہ بات ان کے دل میں چبھ گئی، وہ میرے اونٹوں کی نگرانی سے واپس آئے تو میں نے انہیں غمگین اور روتا ہوا پایا، میں نے پوچھا: ماموں جان! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے مجھے یہ بات بتائی۔ میں نے کہا: اللہ اس بات کو روکے، ہم بےحیائی سے نفرت کرتے ہیں اگرچہ زمانے نے ہمیں (تنگی میں) مبتلا کر دیا ہے، اور تم نے اپنے اس حسنِ سلوک کی صفائی کو مکدر کر دیا ہے جس سے تم نے ہمارا استقبال کیا تھا، اب ساتھ رہنے کا کوئی راستہ نہیں، چنانچہ میں اپنی والدہ اور بھائی کو لے کر روانہ ہوا یہاں تک کہ ہم مکہ کے قریب اترے۔ میرے بھائی نے کہا: میں ایک شاعر سے (شعر میں) مقابلہ کروں گا، میں نے کہا: ایسا نہ کرو، لیکن ضد نے انہیں نکال ہی دیا یہاں تک کہ انہوں نے دُرید بن الصمہ سے مقابلہ کیا اور اپنا گلہ اس کے گلے کے مقابلے میں داؤ پر لگا دیا، اور اللہ کی قسم! دُرید اس دن میرے بھائی سے زیادہ اچھا شعر کہنے والا تھا، پھر دونوں نے خنساء کو فیصل بنایا، تو اس نے میرے بھائی کو دُرید پر ترجیح دی، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ دُرید نے اس کے باپ سے اس کا نکاح مانگا تھا، تو اس نے کہا: بوڑھا آدمی ہے، مجھے اس کی حاجت نہیں، اس بات پر وہ اس سے کینہ رکھتی تھی۔ چنانچہ ہم نے اس کا گلہ اپنے گلے میں شامل کر لیا، تو ہمارے پاس ایک بڑا ریوڑ ہو گیا۔ پھر میں مکہ آیا اور سب سے پہلے صفا کی طرف گیا، تو وہاں قریش کے لوگ موجود تھے، اور مجھے یہ بات پہنچی تھی کہ وہاں کوئی بےدین، یا دیوانہ، یا شاعر، یا جادوگر ہے، تو میں نے پوچھا: وہ کہاں ہے جسے تم لوگ ایسا سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا: وہ وہاں ہے جہاں تم دیکھ رہے ہو۔ میں ان کی طرف پلٹا، تو اللہ کی قسم! میں ابھی ان سے ایک پتھر کے فاصلے تک بھی نہ گیا تھا کہ لوگ ہر ہڈی، پتھر اور مٹی کے ڈھیلے کے ساتھ میرے اوپر ٹوٹ پڑے اور مجھے خون میں نہلا دیا، تو میں بیت اللہ کی طرف آیا اور پردوں اور عمارت کے درمیان داخل ہو گیا، اور اس میں تیس دن روزہ رکھا، نہ کچھ کھاتا تھا نہ پیتا تھا سوائے زمزم کے پانی کے، یہاں تک کہ ایک روشن چاندنی رات تھی، خزاعہ کی دو عورتیں آئیں اور بیت اللہ کا طواف کیا، پھر انہوں نے اِساف اور نائلہ کا ذکر کیا، جو دو بت تھے جن کی وہ پوجا کرتے تھے، تو میں نے اپنا سر پردوں کے نیچے سے نکالا اور کہا: ان دونوں میں سے ایک کو دوسرے پر سوار کر دو، وہ دونوں غصے میں آ گئیں اور کہنے لگیں: اللہ کی قسم! اگر ہمارے مرد موجود ہوتے تو تم یہ بات نہ کہتے۔ پھر وہ دونوں واپس چل دیں، میں ان کے نقشِ قدم پر چلتا رہا یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے جا ملیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم کون ہو، کہاں سے ہو، کہاں سے آ رہی ہو، اور کیوں آئی ہو؟“ انہوں نے سارا واقعہ بتا دیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم نے اس بےدین کو کہاں چھوڑا؟“ انہوں نے کہا: ہم نے اسے پردوں اور عمارت کے درمیان چھوڑا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے تم سے کچھ کہا؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، ایسی بات جو منہ بھر دے۔ رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے، پھر وہ دونوں چپکے سے چلی گئیں، اور میں رسول اللہ ﷺ کی طرف بڑھا اور آپ کو سلام کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کون ہو، کس قبیلے سے ہو، کہاں سے ہو، کہاں سے آئے ہو، اور کیوں آئے ہو؟“ میں نے آپ کو سارا واقعہ سنانا شروع کیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم کھاتے پیتے کہاں سے تھے؟“ میں نے عرض کیا: زمزم کے پانی سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو، وہ خوراک بخش پانی ہے۔“ اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اجازت دیں کہ میں اسے کھانا کھلا دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ چلتے ہوئے روانہ ہوئے، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر رک گئے، پھر سیدنا ابوبکر اپنے گھر میں داخل ہوئے اور طائف کی کشمش لے آئے، اور مٹھی بھر بھر کر ہمیں دینے لگے اور ہم اسے کھاتے رہے یہاں تک کہ سیر ہو گئے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے عرض کیا: حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو، مجھے ایک ایسی زمین دکھائی گئی ہے جو پانی والی ہے، میرا خیال ہے کہ وہ تہامہ کے سوا کچھ اور نہیں، تم اپنی قوم کے پاس جاؤ اور انہیں اسی چیز کی دعوت دو جس میں تم داخل ہو چکے ہو۔“ میں اپنی ماں اور بھائی کے پاس گیا اور انہیں سارا واقعہ بتایا، انہوں نے کہا: جس دین میں تم داخل ہوئے ہو ہمیں اس سے کوئی نفرت نہیں، چنانچہ وہ دونوں مسلمان ہو گئے۔ پھر ہم روانہ ہو کر مدینہ پہنچے تو میں نے اپنی قوم کو بتایا، انہوں نے کہا: ہم نے تمہاری تصدیق کر لی، مگر ہم محمد ﷺ سے ملنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو ہم آپ سے ملے، تو قبیلہ غفار نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوذر نے ہمیں وہی کچھ بتایا جو آپ نے اسے بتایا تھا، اور ہم مسلمان ہو گئے ہیں اور گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر قبیلہ اسلم اور خزاعہ آگے بڑھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم بھی چاہتے ہیں اور اسی میں داخل ہو گئے ہیں جس میں ہمارے بھائی اور حلیف داخل ہوئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلم، اللہ نے اسے سلامتی بخشی، اور غفار، اللہ نے اسے بخش دیا۔“ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: اے ابوذر! میں نے عرض کیا: حاضر ہوں اے ابوبکر۔ انہوں نے پوچھا: کیا تم اپنی جاہلیت میں کسی معبود کی عبادت کرتے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، میں سورج کے سامنے کھڑا ہو کر اس وقت تک نماز پڑھتا رہتا جب تک اس کی گرمی مجھے تکلیف نہ دیتی، پھر میں یوں گر پڑتا جیسے پرانا کپڑا ہوں۔ انہوں نے پوچھا: پھر تم کس طرف رخ کرتے تھے؟ میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم، سوائے اس کے کہ جدھر اللہ عزوجل نے مجھے متوجہ کیا، یہاں تک کہ اللہ نے مجھ پر اسلام کی راہ کھول دی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 769
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 266، حدیث 773