حدیث نمبر: 7590
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، وصَفْوَانُ الْأَصَمُّ الطَّائِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: «الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ، وَالْمَنِيحَةُ مَرْدُودَةٌ، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ»
«وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ»
«وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ»
ترجمہ

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”عاریت واپس کی جانے والی ہے، عطیہ واپس کیا جانے والا ہے، اور ضامن تاوان دینے والا ہے۔“
”اور بچہ صاحبِ فراش کا ہے، اور زانی کے لیے پتھر ہے۔“
”اور کسی وارث کے لیے کوئی وصیت جائز نہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7590
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 137، حدیث 7621