المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
شرحبيل بن مسلم الخولاني، عن أبي أمامة باب: شرحبیل بن مسلم خولانی کی ابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ شَاهِينَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ح، وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، يَقُولُ فِي عَامِ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ»
«الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ. وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ الْبَالِغَةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
«وَلَا تُنْفِقَنَّ امْرَأَةٌ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا» . قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَا الطَّعَامَ؟ قَالَ: «ذَلِكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا»
ثُمَّ قَالَ: «الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ، وَالْمَنِيحَةُ مَرْدُودَةٌ، وَالدَّيْنُ يُقْضَى، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ "سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع کے سال یہ فرماتے سنا: ”اللہ عزوجل نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے، کسی وارث کے لیے کوئی وصیت جائز نہیں۔“
”بچہ صاحبِ فراش (شوہر) کا ہے، اور زانی کے لیے پتھر (نامرادی) ہے، ان کا حساب اللہ عزوجل کے ذمے ہے، جو شخص اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے، یا اپنے آزاد کرنے والوں کے سوا کسی اور کی طرف اپنی وابستگی کرے، اس پر اللہ کی لعنت ہے جو قیامت تک رہے گی۔“
”اور کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے کچھ خرچ نہ کرے۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ، کیا کھانا بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تو ہمارے مالوں میں سب سے بہتر ہے۔“
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”عاریت واپس کی جانے والی ہے، عطیہ واپس کیا جانے والا ہے، قرض ادا کیا جانے والا ہے، اور ضامن تاوان دینے والا ہے۔“