المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومما أسند أنس بن مالك رضي الله عنه باب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 757
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أُنَاسًا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: سَعِّرْ لَنَا أَسْعَارًا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ غَلَاءَ أَسْعَارِكُمْ وَرُخْصِهَا بِيَدِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَيْسَ لِأَحَدٍ مِنْكُمْ قِبَلِي مَظْلَمَةٌ فِي مَالٍ وَلَا دَمٍ»ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے لیے قیمتیں مقرر فرما دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری چیزوں کی گرانی اور سستی اللہ عزوجل کے ہاتھ میں ہے، مجھے امید ہے کہ میں اللہ عزوجل سے اس حال میں ملوں کہ تم میں سے کسی کا مجھ پر مال یا خون کا کوئی ظلم نہ ہو۔“