❮
❯
حدیث نمبر: 7487
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا إِدْرِيسُ بْنُ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَى كُلِّ مَنْ لَقِيَهُ. قَالَ: فَمَا عَلِمْتُ أَحَدًا سَبَقَهُ بِالسَّلَامِ إِلَّا يَهُودِيًّا مَرَّةً اخْتَبَأَ لَهُ خَلْفَ أُسْطُوَانَةٍ، فَخَرَجَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ: وَيْحَكَ يَا يَهُودِيُّ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: رَأَيْتُكَ رَجُلًا تُكْثِرُ السَّلَامَ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ فَضْلٌ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ آخُذَ بِهِ، فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ: وَيْحَكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ جَعَلَ السَّلَامَ تَحِيَّةً لِأُمَّتِنَا، وَأَمَانًا لِأَهْلِ ذِمَّتِنَا»
ترجمہ

محمد بن زیاد الالہانی رحمہ اللہ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ جس سے بھی ملتے اسے سلام کرتے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ اس نے سلام کرنے میں ان سے سبقت لی ہو سوائے ایک بار ایک یہودی کے جو ایک ستون کے پیچھے ان سے چھپ گیا، پھر نکلا اور انہیں سلام کیا، تو ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: افسوس تم پر اے یہودی، تمہیں یہ کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: میں نے تمہیں ایسا شخص دیکھا جو بہت سلام کرتا ہے، تو میں سمجھ گیا کہ یہ ایک فضیلت ہے، تو میں نے چاہا کہ اسے اپنا لوں۔ اس پر سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: افسوس تم پر، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”اللہ نے سلام کو ہماری امت کے لیے ملاقات کا تحفہ (تحیہ) اور ہمارے ذمی لوگوں کے لیے امان بنایا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7487
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 109، حدیث 7518