المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
صرمة العذري باب: سیدنا صرمہ عذری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 7377
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ صِرْمَةَ الْعُذْرِيِّ، قَالَ: غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَصَبْنَا كَرَائِمَ الْعَرَبِ، فَأَرْغَبْنَا فِي التَّمَتُّعِ، وَقَدِ اشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزُوبَةُ، فَأَرَدْنَا أَنْ نسْتَمْتِعَ، وَنَعْزِلَ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ مَا يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نصْنَعَ هَذَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، حَتَّى نَسْأَلَهُ فَسَأَلْنَاهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «اعْزِلُوا أَوْ لَا تَعْزِلُوا، مَا كَتَبَ اللهُ مِنْ نَسَمَةٍ هِي كَائِنَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، إِلَّا وَهِي كَائِنَةٌ»ترجمہ
سیدنا صرمہ عذری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے بنو مصطلق پر لشکر کشی کی، تو ہمیں عرب کی عمدہ عورتیں (قیدیوں میں) ملیں، تو ہمیں مباشرت کی خواہش ہوئی کیونکہ ہم پر تجرد سخت گزر رہا تھا، تو ہم نے چاہا کہ مباشرت کریں اور عزل کریں، تو ہم میں سے بعض نے بعض سے کہا: ہمارے لیے مناسب نہیں کہ ہم یہ کریں جبکہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان موجود ہیں، ہمیں چاہیے کہ ان سے پوچھیں۔ چنانچہ ہم نے آپ ﷺ سے پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عزل کرو یا نہ کرو، اللہ نے قیامت تک جتنی روحیں پیدا ہونا لکھ دی ہیں وہ ضرور پیدا ہو کر رہیں گی۔“