المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
صفوان بن أمية بن خلف الجمحي يكنى أبا وهب " أتى النبي صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة، فأجله أربعة أشهر، وشهد حنينا وهو مشرك، ثم أسلم بعد ذلك، توفي مقتل عثمان رضي الله عنه " باب: سیدنا صفوان بن امیہ بن خلف جمحی رضی اللہ عنہ، کنیت ابووہب، فتح مکہ کے دن نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے انہیں چار ماہ کی مہلت دی، اور غزوہ حنین میں شریک ہوئے جبکہ وہ اس وقت تک مشرک تھے، پھر بعد میں اسلام قبول کیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت وفات پائی
حدیث نمبر: 7292
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ صَفْوَانَ، بَيْنَمَا هُوَ يَدْفِنُ أَبَاهُ أَتَاهُ رَاكِبٌ، فَقَالَ: قُتِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَقَالَ: «وَاللهِ، مَا أَدْرِي أَيُّ الْمُصِيبَتَيْنِ أَعْظَمُ مَوْتُ أَبِي، أَمْ قَتْلُ عُثْمَانَ؟»ترجمہ
عبداللہ بن صفوان، جب وہ اپنے والد کو دفن کر رہے تھے، ان کے پاس ایک سوار آیا، اور کہا: امیر المومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ قتل کر دیے گئے۔ تو انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم دونوں مصیبتوں میں سے کون سی بڑی ہے، میرے والد کی موت یا عثمان کا قتل؟“