حدیث نمبر: 7253
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ثنا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ، حَدَّثَنِي خَالِي، قَالَ: لَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ بَيْنَ عَرَفَةَ وَالْمُزْدَلِفَةُ، فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ؟ فَقَالَ: «أَمَا وَاللهِ لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ الْمَسْأَلَةَ، لَقَدْ عَظَّمْتَ وَأَطْوَلْتَ، أَقِمِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَحُجَّ الْبَيْتَ، وَمَا أَحْبَبْتُ أَنْ يَفْعَلَهُ النَّاسُ بِكَ فَافْعَلْهُ بِهِمْ، وَمَا كَرِهْتَ أَنْ يَفْعَلَهُ النَّاسُ بِكَ فَدَعِ النَّاسَ مِنْهُ، خَلِّ خِطَامَ النَّاقَةِ» قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ: وَقَالَهُ صَخْرُ بْنُ الْقَعْقَاعِ الْبَاهِلِيُّ
ترجمہ

… کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ سے عرفات اور مزدلفہ کے درمیان ملا، تو میں نے آپ ﷺ کی اونٹنی کی نکیل تھام لی، اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی بات بتائیں جو مجھے جنت سے قریب اور دوزخ سے دور کر دے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سنو، اللہ کی قسم! اگرچہ تم نے سوال مختصر کیا، لیکن تم نے بڑی اور طویل بات پوچھی ہے۔ فرض نماز قائم کرو، فرض زکاۃ ادا کرو، بیت اللہ کا حج کرو، اور جو تم پسند کرتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں وہ تم ان کے ساتھ کرو، اور جو تم ناپسند کرتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں وہ تم لوگوں کے ساتھ نہ کرو، اب اونٹنی کی نکیل چھوڑ دو۔“ ابراہیم بن حجاج رحمہ اللہ کہتے ہیں: اور یہ حدیث صخر بن قعقاع باہلی رضی اللہ عنہ نے بھی بیان کی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7253
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 27، حدیث 7284