المعجم الكبير للطبراني
باب الشين— حرف شین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
شيبة بن عثمان بن طلحة بن عبد العزى بن عثمان بن عبد الله بن عبد الدار بن قصي الحجبي يكنى أبا عثمان أسلم يوم الفتح، ويقال: يوم حنين، وكان من المؤلفة باب: سیدنا شیبہ بن عثمان بن طلحہ بن عبدالعزیٰ بن عثمان بن عبداللہ بن عبدالدار بن قصی حجبی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعثمان، فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے، اور کہا جاتا ہے کہ حنین کے دن، اور مؤلفۃ القلوب میں سے تھے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَ شَيْبَةُ بْنُ عُثْمَانَ: لَمَّا غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنَ، تَذَكَّرْتُ أَبِي وَعَمِّي , قَتَلَهُمَا عَلِيٌّ وَحَمْزَةُ، فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أُدْرِكُ ثَأْرِي فِي مُحَمَّدٍ، فَجِئْتُهُ فَإِذَا الْعَبَّاسُ مِنْ يَمِينِهِ , عَلَيْهِ دِرْعٌ بَيْضَاءُ كَأَنَّهَا الْفِضَّةُ , فَكَشَفَ عَنْهَا الْعَجَاجَ، فَقُلْتُ: عَمُّهُ لَنْ يَخْذُلَهُ، فَجِئْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَإِذَا أَنَا بِأَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْحَارِثِ، فَقُلْتُ: ابْنُ عَمِّهِ وَلَنْ يَخْذُلَهُ، فَجِئْتُهُ مِنْ خَلْفِهِ، فَدَنَوْتُ وَدَنَوْتُ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا أَنْ أُسَوِّرَهُ سَوْرَةً بِالسَّيْفِ , رُفِعَ إِلَيَّ شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ كَأَنَّهُ الْبَرْقُ، فَخِفْتُ أَنْ يَمْحَشَنِي، فَنَكَصْتُ الْقَهْقَرَى، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَعَالَ يَا شَيْبُ» فَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي، فَاسْتَخْرَجَ اللهُ الشَّيْطَانَ مِنْ قَلْبِي، فَرَفَعْتُ إِلَيْهِ بَصَرِي وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ سَمْعِي وَمِنْ بَصَرِي , وَمِنْ كَذَا، فَقَالَ لِي: «يَا شَيْبُ قَاتِلِ الْكُفَّارَ» ، ثُمَّ قَالَ: «يَا عَبَّاسُ، اصْرُخْ بِالْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ، وَبِالْأَنْصَارِ الَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا» ، فَمَا شَبَّهْتُ عَطْفَةَ الْأَنْصَارِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْبَقَرَ عَلَى أَوْلَادِهَا، حَتَّى نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ حَرَجَةٌ، قَالَ: فَلَرِمَاحُ الْأَنْصَارِ كَانَتْ عِنْدِيَ أَخْوَفَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رِمَاحِ الْكُفَّارِ، ثُمَّ قَالَ: «يَا عَيَّاشُ نَاوِلْنِي مِنَ الْبَطْحَاءِ» , قَالَ: فَأَفْقَهَ اللهُ الْبَغْلَةَ كَلَامَهُ، فَأَخْفَضَتْ بِهِ حَتَّى كَادَ بَطْنُهَا يَمَسُّ الْأَرْضَ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحَصْبَاءِ، فَنَفَخَ فِي وُجُوهِهِمْ، وَقَالَ: «شَاهَتِ الْوُجُوهُ، حم لَا يُنْصَرُونَ»… اس کے سوا کچھ باقی نہ رہا تھا کہ میں تلوار سے آپ ﷺ پر وار کروں، کہ اچانک میرے سامنے آگ کا ایک شعلہ اٹھا جیسے بجلی ہو، تو مجھے ڈر لگا کہ وہ مجھے جھلسا نہ دے، تو میں پیچھے ہٹ گیا، پھر نبی کریم ﷺ نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”آ جاؤ اے شیب!“ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھا، تو اللہ نے میرے دل سے شیطان کو نکال دیا، تو میں نے اپنی نظر آپ ﷺ کی طرف اٹھائی، اور اس وقت وہ مجھے میرے کانوں، میری آنکھوں اور فلاں چیز سے بھی زیادہ محبوب تھے، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے شیب! کافروں سے لڑو۔“ پھر فرمایا: ”اے عباس! ان مہاجرین کو پکارو جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی، اور ان انصار کو جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی۔“ تو میں نے انصار کے رسول اللہ ﷺ کی طرف پلٹنے کو گائے کے اپنے بچھڑوں کی طرف پلٹنے کے سوا کسی چیز سے تشبیہ نہ دی، یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک جھنڈ کی طرح اتر آئے۔ راوی کہتے ہیں: تو انصار کے نیزے مجھے رسول اللہ ﷺ کے لیے کفار کے نیزوں سے زیادہ خطرناک لگتے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عیاش! مجھے کچھ کنکر دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو اللہ نے خچر کو آپ ﷺ کی بات سمجھا دی، تو وہ جھک گئی یہاں تک کہ اس کا پیٹ زمین کو چھونے کے قریب ہو گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے کنکر لیے، اور انہیں ان کافروں کے چہروں پر پھینکا، اور فرمایا: ”چہرے بگڑ جائیں، ح م، انہیں مدد نہ ملے۔“