❮
❯
حدیث نمبر: 7130
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مِنْ وَلَدِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ جَالِسٌ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَلَى فِرَاشِهِ، فَجَلَسَ شَدَّادٌ بَيْنَهُمَا وَقَالَ: هَلْ تَدْرِيَانِ مَا يُجْلِسُنِي بَيْنَكُمَا؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا جَمِيعًا فَفَرِّقُوا بَيْنَهُمَا، فَوَاللهِ مَا اجْتَمَعَا إِلَّا عَلَى غَدْرَةٍ» ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُفَرِّقَ بَيْنَكُمَا "
ترجمہ

سیدنا شداد رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، وہ بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ان کے بستر پر تھے، تو شداد رضی اللہ عنہ ان دونوں کے درمیان بیٹھ گئے اور کہا: کیا تم دونوں جانتے ہو کہ مجھے تمہارے درمیان کیوں بٹھایا؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”جب تم ان دونوں کو اکٹھے دیکھو تو ان کے درمیان تفریق کر دو، اللہ کی قسم! یہ دونوں کبھی کسی بدعہدی کے سوا اکٹھے نہیں ہوتے۔“ تو مجھے اچھا لگا کہ میں تم دونوں کے درمیان جدائی ڈال دوں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الشين / حدیث: 7130
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 289، حدیث 7161