المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن سمرة عن أبيه باب: سلیمان بن سمرہ کی اپنے والد سے روایات
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " لَيْسَ فِي الدُّنْيَا حَسْرَةٌ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: رَجُلٍ كَانَ لَهُ سَقْيٌ، وَلَهُ سَانِيَةٌ يَسْقِي عَلَيْهَا أَرْضَهُ، فَلَمَّا اشْتَدَّ ظَمَأُ أَرْضِهِ، وَخَرَجَ ثِمَارُهَا مَاتَتْ سَانِيَتُهُ، فَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى سَانِيَتِهِ الَّذِي قَدْ عَلَّمَهُ السَّقْيَ أَنْ يَجِدَ مِثْلَهُ، وَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى ثَمَرَةِ أَرْضِهِ أَنْ تَفْسَدَ قَبْلَ أَنْ يُحِيلَ لَهَا حِيلَةً، وَرَجُلٍ كَانَ لَهُ فَرَسٌ جَوَادٌ , فَلَقِيَ جَمْعًا مِنَ الْكُفَّارِ، فَلَمَّا دَنَا بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ انْهَزَمَ أَعْدَاءُ اللهِ، فَسَبَقَ الرَّجُلُ عَلَى فَرَسِهِ، فَلَمَّا كَرَبَ أَنْ يَلْحَقَ كُسِرَتْ بِهِ فَرَسُهُ، وَتُرِكَ قَائِمًا عِنْدَهُ، يَجِدُ حَسْرَةً عَلَى فَرَسِهِ أَنَّ لَا يَجِدَ مِثْلَهُ، وَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى مَا فَاتَهُ مِنَ الظَّفَرِ الَّذِي كَانَ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِ، وَرَجُلٍ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ قَدْ رَضِيَ هَيْأَتَهَا وَدِينَهَا، فَنَفَسَتْ غُلَامًا، فَمَاتَتْ بِنَفَسِهِ، فَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى امْرَأَتِهِ يَظُنُّ أَنَّهُ لَنْ يُصَادِفَ مِثْلَهَا، وَيَجِدُ حَسْرَةً عَلَى وَلَدِهَا يَخْشَى أَنْ يَهْلِكَ ضَيْعَةً قَبْلَ أَنْ يَجِدَ لَهُ مُرْضِعَةً " قَالَ: «وَهَذِهِ أَكْثَرُ أُولَئِكَ الْحَسَرَاتِ»سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”دنیا میں حسرت صرف تین آدمیوں کے لیے ہے: ایک وہ آدمی جس کے پاس ایک کھیت ہو اور ایک پانی کھینچنے والا اونٹ ہو جس سے وہ اپنی زمین کو سیراب کرتا ہو، پھر جب اس کی زمین کی پیاس شدید ہو جائے اور اس کے پھل نکل آئیں تو اس کا پانی کھینچنے والا اونٹ مر جائے، تو اسے اپنے اس اونٹ پر حسرت ہوتی ہے جسے اس نے پانی کھینچنا سکھایا تھا کہ اسے اس جیسا دوسرا نہیں ملے گا، اور اسے اپنی زمین کے پھل پر بھی حسرت ہوتی ہے کہ وہ اس کے لیے کوئی تدبیر کرنے سے پہلے ہی خراب ہو جائیں گے۔ اور دوسرا وہ آدمی جس کے پاس ایک تیز رفتار گھوڑا ہو، وہ کافروں کے ایک لشکر سے ملا، جب دونوں فوجیں قریب ہوئیں تو اللہ کے دشمن شکست کھا گئے، تو وہ آدمی اپنے گھوڑے پر آگے نکل گیا، جب وہ دشمن سے ملنے کے قریب ہوا تو اس کا گھوڑا اسے لے کر ٹوٹ گرا اور وہ اس کے پاس کھڑا رہ گیا، تو اسے اپنے گھوڑے پر حسرت ہوتی ہے کہ اسے اس جیسا دوسرا نہیں ملے گا، اور اسے اس فتح پر بھی حسرت ہوتی ہے جو اس کے ہاتھ سے نکل گئی جبکہ وہ اس کے قریب پہنچ چکا تھا۔ اور تیسرا وہ آدمی جس کے نکاح میں ایک عورت ہو جس کی صورت اور دین دونوں سے وہ راضی ہو، پھر وہ ایک لڑکے کو جنم دیتے ہوئے فوت ہو گئی، تو وہ اپنی بیوی پر حسرت محسوس کرتا ہے، اس گمان میں کہ اسے اس جیسی دوبارہ نہیں ملے گی، اور اپنے بچے پر بھی حسرت محسوس کرتا ہے، اس ڈر سے کہ کہیں وہ دودھ پلانے والی نہ ملنے کی وجہ سے ضائع ہو کر ہلاک نہ ہو جائے۔“ فرمایا: ”اور یہ ان حسرتوں میں سب سے زیادہ ہے۔“