❮
❯
حدیث نمبر: 6998
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا دُحَيْمٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا سُلَيْمَانُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: أَتَاهُ - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ يَسْتَفْتِيهِ عَنِ الرَّجُلِ: مَا الَّذِي يَحِلُّ لَهُ؟ وَالَّذِي يَحْرُمُ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ وَنُسُكِهِ وَمَاشِيَتِهِ وَعِتْرِهِ وَفَرْعِهِ مِنْ نِتَاجِ إِبِلِهِ وَعُقْمِهِ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُحِلُّ لَكَ الطَّيِّبَاتِ، وَأُحَرِّمُ عَلَيْكَ الْخَبَائِثَ، إِلَّا أَنْ تَفْتَقِرَ إِلَى طَعَامٍ فَتَأْكُلَ مِنْهُ حَتَّى تَسْتَغْنِيَ عَنْهُ» , وَأَنَّهُ سَأَلَهُ الرَّجُلُ حِينَئِذٍ، فَقَالَ: مَا فَقْرِيَ الَّذِي آكُلُ ذَلِكَ إِذَا بَلَغْتُهُ، أَمْ غِنَايَ الَّذِي يُغْنِينِي عَنْهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كُنْتَ تَرْجُو نِتَاجًا فَتَبْلُغُ بِلُحُومِ مَاشِيَتِكَ إِلَى نِتَاجِكَ، أَوْ كُنْتَ تَرْجُو غَيْثًا فَتُصِيبُهُ مُدْرِكًا , فَتَبْلُغُ إِلَيْهِ بِلُحُومِ مَاشِيَتِكَ إِلَى نِتَاجِكَ، أَوْ كُنْتَ تَرْجُو فَائِدَةَ مَالِهَا , فَتَبْلُغُهَا بِلُحُومِ مَاشِيَتِكَ، وَإِذَا كُنْتَ لَا تَرْجُو مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَأَطْعِمْ أَهْلَكَ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى تَسْتَغْنِيَ عَنْهُ» قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: وَمَا غِنَايَ الَّذِي أَدَعُهُ إِذَا وَجَدْتُهُ؟ قَالَ: «إِذَا رَوَيْتَ أَهْلَكَ غَبُوقًا مِنِ اللَّبَنِ، فَاجْتَنِبْ مَا حُرِّمَ عَلَيْكَ مِنَ الطَّعَامِ، وَأَمَّا مَالُكَ فَإِنَّهُ مَيْسُورٌ كُلُّهُ، لَيْسَ مِنْهُ حَرَامٌ، غَيْرَ أَنَّ فِي نِتَاجِكَ مِنْ إِبِلِكَ فَرَعًا، وَفِي نِتَاجِكَ مِنْ غَنَمِكَ فَرَعًا، تَغْدُوهُ مَاشِيَتُكَ حَتَّى تَسْتَغْنِيَ، ثُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ، وَإِنْ شِئْتَ تَصَدَّقَ بِلَحْمِهِ» وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتِرَ مِنَ الْغَنَمِ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ عَشْرًا
ترجمہ

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دیہاتی آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ سے یہ فتویٰ پوچھا کہ آدمی کے لیے اس کے مال، اس کی قربانی، اس کے مویشی، اس کی عتیرہ اور اس کے فرع (اونٹ کے پہلوٹھی کے بچے کی قربانی) میں، اس کے اونٹوں کی پیدائش اور بانجھ پن کے بارے میں کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”میں تیرے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کرتا ہوں، اور ناپاک چیزیں تجھ پر حرام کرتا ہوں، سوائے اس کے کہ تجھے کسی کھانے کی سخت ضرورت پڑ جائے تو تو اس میں سے کھا لے یہاں تک کہ تو اس سے بے نیاز ہو جائے۔“ اسی وقت اس آدمی نے آپ ﷺ سے پھر پوچھا: میری وہ محتاجی کیا ہے کہ جب میں اس تک پہنچ جاؤں تو وہ (حرام) کھا لوں، یا میری وہ خوشحالی کیا ہے جو مجھے اس سے مستغنی کر دے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تجھے اونٹنیوں کی نئی پیدائش کی امید ہو تو تو اپنے مویشیوں کے گوشت سے اس نئی پیدائش تک پہنچ جا، یا تجھے کسی بارش کے آنے کی امید ہو جسے تو پا لے، تو تو اپنے مویشیوں کے گوشت سے اس تک اور اپنی نئی پیدائش تک پہنچ جا، یا تجھے کسی مال کے فائدے کی امید ہو تو تو اپنے مویشیوں کے گوشت سے اس تک پہنچ جا، اور اگر تجھے ان میں سے کسی چیز کی امید نہ ہو تو اپنے گھر والوں کو جو تجھے مناسب لگے کھلا، یہاں تک کہ تو اس سے بے نیاز ہو جائے۔“ اس دیہاتی نے پوچھا: وہ بے نیازی کیا ہے جسے پا لینے پر میں اسے چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو اپنے گھر والوں کو شام کا دودھ پلا کر سیراب کر دے، تو جو کھانا تجھ پر حرام کیا گیا ہے اس سے بچ، رہا تیرا باقی مال، تو وہ سب حلال ہے، اس میں کچھ حرام نہیں، سوائے اس کے کہ تیرے اونٹوں کی پیدائش میں سے ایک 'فرع' ہے، اور تیری بکریوں کی پیدائش میں سے ایک 'فرع' ہے، تیرے مویشی اسے چراتے رہیں یہاں تک کہ تو اس سے بے نیاز ہو جائے، پھر اگر تو چاہے تو اسے اپنے گھر والوں کو کھلا دے، اور اگر چاہے تو اس کا گوشت صدقہ کر دے۔“ اور آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنی بکریوں میں سے ہر سو میں سے دس 'عتیرہ' کرے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6998
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 252، حدیث 7028