حدیث نمبر: 6716
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ مَجْزَأَةَ، أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ، كَانَتْ لَهُ قُصَّةٌ فِي مُقَدَّمِ رَأْسَهِ , إِذَا قَعَدَ أَرْسَلَهَا، فَتَبْلُغُ الْأَرْضَ، فَقَالُوا لَهُ: أَلَا تَحْلِقُهَا؟ فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَيْهَا بِيَدِهِ فَلَمْ أَكُنْ لِأَحْلِقَهَا حَتَّى أَمُوتَ، فَلَمْ يَحْلِقْهَا حَتَّى مَاتَ»
ترجمہ

صفیہ بنت مجزاہ بیان کرتی ہیں کہ ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کے سر کے اگلے حصے پر بالوں کی ایک لٹ تھی، جب وہ بیٹھتے تو اسے چھوڑ دیتے اور وہ زمین تک پہنچ جاتی، لوگوں نے ان سے کہا: آپ اسے کترتے کیوں نہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا تھا، اس لیے میں مرتے دم تک اسے نہیں کتروں گا۔“ چنانچہ انہوں نے مرتے دم تک اسے نہیں کترا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6716
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 176، حدیث 6746