المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سمرة بن معير أبو محذورة الجمحي مؤذن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو سمرة بن معير بن وهب بن دعموص بن سعد بن جمح، وقد اختلف في اسمه قال ابن الكلبي: اسمه أوس بن معير باب: سیدنا سمرہ بن معیر ابومحذورہ جمحی رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے مؤذن، وہ سمرہ بن معیر بن وہب بن دعموص بن سعد بن جمح ہیں، ان کے نام میں اختلاف ہے، ابن کلبی نے کہا: ان کا نام اوس بن معیر تھا
حدیث نمبر: 6716
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ مَجْزَأَةَ، أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ، كَانَتْ لَهُ قُصَّةٌ فِي مُقَدَّمِ رَأْسَهِ , إِذَا قَعَدَ أَرْسَلَهَا، فَتَبْلُغُ الْأَرْضَ، فَقَالُوا لَهُ: أَلَا تَحْلِقُهَا؟ فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَيْهَا بِيَدِهِ فَلَمْ أَكُنْ لِأَحْلِقَهَا حَتَّى أَمُوتَ، فَلَمْ يَحْلِقْهَا حَتَّى مَاتَ»ترجمہ
صفیہ بنت مجزاہ بیان کرتی ہیں کہ ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کے سر کے اگلے حصے پر بالوں کی ایک لٹ تھی، جب وہ بیٹھتے تو اسے چھوڑ دیتے اور وہ زمین تک پہنچ جاتی، لوگوں نے ان سے کہا: آپ اسے کترتے کیوں نہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا تھا، اس لیے میں مرتے دم تک اسے نہیں کتروں گا۔“ چنانچہ انہوں نے مرتے دم تک اسے نہیں کترا۔