❮
❯
حدیث نمبر: 6695
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ قَطَنٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ صُبَيْحٍ، أَخُو الرَّبِيعِ بْنِ صَبِيحٍ، حَدَّثَنِي سِيمُوَيْهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْتُ مِنْ فِيهِ إِلَى أُذُنِي، وَحَمَلْنَا قَمْحًا مِنَ الْبَلْقَاءِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَبِعْنَا وَأَرَدْنَا أَنْ نَشْتَرِيَ تَمْرَ الْمَدِينَةِ، فَمَنَعُونَا , فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَخَبَّرْنَاهُ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِينَ مَنَعُونَا: «أَمَا يَكْفِيكُمْ رُخْصُ هَذَا الطَّعَامِ بِغَلَاءِ هَذَا التَّمْرِ الَّذِي يَحْمِلُونَهُ، ذَرُوهُمْ يَحْمِلُونَهُ» وَكَانَ سِيمُوَيْهِ مِنْ بَلْقَاءَ نَصْرَانِيًّا شَمَّاسًا، فَأَسْلَمَ وَحَسُنَ إِسْلَامُهُ، وَعَاشَ مِائَةً وَعِشْرِينَ سَنَةً
ترجمہ

سیمویہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ ﷺ کے منہ سے خود اپنے کان تک سنا، اور ہم بلقاء سے گندم مدینہ لائے تھے، ہم نے اسے بیچا اور مدینہ کی کھجوریں خریدنا چاہیں تو لوگوں نے ہمیں روک دیا، تو ہم نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو بتایا، تو نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں سے، جنہوں نے ہمیں روکا تھا، فرمایا: ”کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ یہ غلہ سستا ملتا ہے اس مہنگی کھجور کے بدلے جو یہ لے جا رہے ہیں؟ انہیں چھوڑ دو تاکہ وہ اسے لے جائیں۔“ سیمویہ بلقاء کے رہنے والے ایک نصرانی شماس تھے، پھر وہ مسلمان ہوئے اور ان کا اسلام عمدہ رہا، اور وہ ایک سو بیس سال زندہ رہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6695
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 169، حدیث 6725