المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند السائب باب: سیدنا سائب رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 6588
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرُ الضَّبِّيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خَيْثَمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي السَّائِبِ، أَنَّهُ كَانَ يُشَارِكُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْإِسْلَامِ فِي التِّجَارَةِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ أَتَاهُ، فَقَالَ: «مَرْحَبًا بِأَخِي وَشَرِيكِي لَا يُدَارِي وَلَا يُمَارِي، يَا سَائِبُ، قَدْ كُنْتَ تَعْمَلُ أَعْمَالًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا تُتَقَبَّلُ مِنْكَ، وَهِيَ الْيَوْمَ تُتَقَبَّلُ مِنْكَ» وَكَانَ ذَا سَلَفٍ وَصِلَةٍترجمہ
سیدنا سائب بن ابی سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اسلام سے پہلے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تجارت میں شریک تھے، جب فتح مکہ کا دن آیا تو وہ آپ ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”خوش آمدید میرے بھائی اور میرے شریک کو، جو نہ جھگڑا کرتا ہے اور نہ تکرار۔ اے سائب! تم جاہلیت میں جو اعمال کرتے تھے وہ قبول نہیں کیے جاتے تھے، لیکن آج وہ تم سے قبول کیے جائیں گے۔“ اور وہ صلہ رحمی اور قرض میں سخاوت کرنے والے تھے۔