المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سنان بن سلمة بن المحبق أبو طريف الهذلي باب: سیدنا سنان بن سلمہ بن محبق ابوطریف ہذلی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَجَّاجٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ جُنَادَةَ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ تَصَدَّقَ بِأَرْضٍ لَهُ عَظِيمَةٍ عَلَى أُمِّهِ، فَمَاتَتْ وَلَيْسَتْ لَهَا وَارِثٌ غَيْرُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي فُلَانَةً كَانَتْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ , وأَعَزِّهِمْ عَلَيَّ، وَإِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَيْهَا بِأَرْضٍ لِي عَظِيمَةٍ، فَمَاتَتْ وَلَيْسَ لَهَا وَارِثٌ غَيْرِي، فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ بِهَا؟ قَالَ: «قَدْ أَوْجَبَ اللهُ أَجْرَكَ، وَرَدَّ عَلَيْكَ أَرْضَكَ، اصْنَعْ بِهَا مَا شِئْتَ»(سیدنا سنان بن سلمہ بن محبق ابوطریف ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ) مہاجرین میں سے ایک آدمی نے اپنی ایک بڑی زمین اپنی والدہ پر صدقہ کی، پھر وہ فوت ہو گئیں اور اس کے سوا ان کا کوئی وارث نہ تھا، تو وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: میری والدہ فلانہ مجھے سب سے زیادہ محبوب اور معزز تھیں، اور میں نے اپنی ایک بڑی زمین ان کے نام صدقہ کر دی تھی، پھر وہ فوت ہو گئیں اور میرے سوا ان کا کوئی وارث نہیں، تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں کہ میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہارے لیے اجر واجب کر دیا ہے، اور تمہاری زمین تمہیں واپس لوٹا دی، اب اس کے ساتھ جو چاہو کرو۔“