حدیث نمبر: 6438
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ نَاجِيَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ نَضْلَةَ الْغِفَارِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشَّاةِ؟ قَالَ: «لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ» , قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْبَعِيرِ؟ وَكَانَ إِذَا غَضِبَ عُرِفَ ذَلِكَ فِي حُمْرَةِ وَجْنَتَيْهِ فَقَالَ: «مَا لَكَ , وَلَهُ؟ مَعَهُ سِقَاؤُهُ وَحِذَاؤُهُ، يَرِدُ الْمَاءَ، وَيَصْدُرُ الْكَلَأَ، خَلِّ سَبِيلَهُ حَتَّى يَلْقَى رَبَّهُ»
وَسَأَلْتُهُ عَنِ اللُّقَطَةِ؟ فَقَالَ: «عَرِّفْهَا، ثُمَّ أَوْثِقْ وِكَاءَهَا، وَصَدَارَهَا، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا فَشَأْنُكَ بِهَا»
ترجمہ

سیدنا سوید ابوعقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان کے بیٹے عقبہ بن سوید بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (بھٹکی ہوئی) بکری کے بارے میں پوچھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تمہارے لیے ہے، یا تمہارے بھائی کے لیے، یا بھیڑیے کے لیے۔“ میں نے آپ ﷺ سے (بھٹکے ہوئے) اونٹ کے بارے میں بھی پوچھا، اور جب آپ ﷺ کو غصہ آتا تو یہ آپ ﷺ کے رخساروں کی سرخی سے معلوم ہو جاتا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں اس سے کیا سروکار؟ اس کے ساتھ اس کا مشکیزہ (پیٹ میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت) اور اس کے سُم (جوتے) ہیں، وہ خود پانی پر پہنچتا ہے اور خود چراگاہ میں جاتا ہے، اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ اپنے مالک سے آ ملے۔“
میں نے آپ ﷺ سے گری پڑی چیز (لقطہ) کے بارے میں بھی پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی پہچان کرواؤ، پھر اس کی رسی اور تھیلی اچھی طرح باندھ رکھو، پھر اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو، ورنہ (بعد میں) وہ تمہارے استعمال میں ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6438
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 90، حدیث 6468