المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جمهان، عن سفينة باب: سعید بن جمہان کی سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالُوا: ثنا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ سَفِينَةَ عَنِ اسْمِهِ، فَقَالَ: أَنَا مُخْبِرُكَ بِاسْمِي، سَمَّانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفِينَةَ، قُلْتُ: لِمَ سَمَّاكَ سَفِينَةَ؟ قَالَ: خَرَجَ وَمَعَنَا أَصْحَابُهُ، فَثَقُلَ عَلَيْهِمْ مَتَاعُهُمْ، فَقَالَ: «ابْسُطْ كِسَاءَكَ» فَبَسَطْتُهُ، فَجَعَلَ فِيهِ مَتَاعَهُم، ثُمَّ حَمَلَهُ عَلَيَّ، فَقَالَ: «احْمِلْ، مَا أَنْتَ إِلَّا سَفِينَةٌ» قَالَ: فَلَوْ حَمَلْتُ يَوْمَئِذٍ وِقْرَ بَعِيرٍ أَوْ بَعِيرَيْنِ أَوْ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ مَا ثَقُلَ عَلَيَّسیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اپنے نام کے بارے میں بتاتا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے میرا نام سفینہ رکھا تھا۔ (سعید بن جمہان کہتے ہیں) میں نے پوچھا: آپ ﷺ نے آپ کا نام سفینہ کیوں رکھا؟ انہوں نے فرمایا: آپ ﷺ سفر پر نکلے اور ہم آپ ﷺ کے ساتھی بھی تھے، تو صحابہ پر ان کا سامان بھاری پڑ گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی چادر بچھاؤ“، میں نے اسے بچھا دیا تو آپ ﷺ نے اس میں سب کا سامان رکھ دیا، پھر اسے مجھ پر لاد دیا اور فرمایا: ”اٹھاؤ، تم تو ایک کشتی ہی ہو۔“ سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر اس دن میں ایک یا دو اونٹوں کا بوجھ، یا پانچ وسق (سامان) بھی اٹھاتا تو مجھ پر بھاری نہ ہوتا۔