المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
وما أسند سفيان بن عبد الله باب: اور سیدنا سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 6367
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ الْعَامِرِيِّ، أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيَّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ , حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ رَبِّيَ اللهُ , وَاسْتَقِمْ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَكْثَرُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ؟ فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: «هَذَا»ترجمہ
سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: میرا رب اللہ ہے، اور استقامت اختیار کرو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھ پر سب سے زیادہ کس چیز کا خوف رکھتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑی، پھر فرمایا: ”یہ۔“