المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليم بن جابر أبو جابر أبو جري الهجيمي , ويقال جابر بن سليم , والصواب سليم بن جابر باب: سیدنا سلیم بن جابر ابوجابر ابوجری ہجیمی رضی اللہ عنہ، انہیں جابر بن سلیم بھی کہا گیا ہے، لیکن درست سلیم بن جابر ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُحْتَبٍ بِشَمْلَةٍ قَدْ وَقَعَ هُدْبُهَا عَلَى قَدَمَيْهِ، فَقُلْتُ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ؟ فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى نَفْسِهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ وَفِيَّ جَفَاؤُهُمْ , فَأَوْصِنِي؟ قَالَ: «لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا , وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ وَوَجْهُكَ مُبْسَطٌ، وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ بِمَا فِيكَ، فَلَا تَشْتُمْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّهُ يَكُونُ لَكَ أَجْرُهُ , وَعَلَيْهِ وِزْرُهُ» ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّ إِسْبَالَ الْإِزَارِ مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَلَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا " فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ أَحَدًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًاسیدنا جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ ایک چادر میں گوٹ مار کر (احتباء کی حالت میں) بیٹھے ہوئے تھے جس کے پھندنے آپ کے قدموں پر پڑے ہوئے تھے، میں نے عرض کیا: تم میں سے محمد رسول اللہ کون ہیں؟ تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اپنی طرف اشارہ کیا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں دیہاتی لوگوں میں سے ہوں اور مجھ میں ان کی سختی ہے، مجھے کوئی نصیحت فرمائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی نیکی کو ہرگز حقیر نہ سمجھو، خواہ یہ کہ تم اپنے بھائی سے کھلے چہرے کے ساتھ ملو، اور خواہ یہ کہ تم اپنے ڈول سے پانی مانگنے والے کے برتن میں انڈیل دو، اور اگر کوئی شخص تمہیں وہ بات کہہ کر گالی دے جو تم میں واقعی ہے، تو تم اسے وہ بات کہہ کر گالی نہ دو جو تم اس کے بارے میں جانتے ہو، کیونکہ اس کا اجر تمہیں ملے گا اور اس کا گناہ اسی پر ہوگا، اور تہبند لٹکانے سے بچو کیونکہ تہبند لٹکانا تکبر میں سے ہے، اور اللہ تکبر کو پسند نہیں فرماتا، اور کسی کو ہرگز گالی مت دو۔“ (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) اس کے بعد میں نے کسی کو گالی نہیں دی، نہ کسی بکری کو اور نہ کسی اونٹ کو۔