حدیث نمبر: 6355
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُحْتَبٍ بِشَمْلَةٍ قَدْ وَقَعَ هُدْبُهَا عَلَى قَدَمَيْهِ، فَقُلْتُ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ؟ فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى نَفْسِهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ وَفِيَّ جَفَاؤُهُمْ , فَأَوْصِنِي؟ قَالَ: «لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا , وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ وَوَجْهُكَ مُبْسَطٌ، وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ بِمَا فِيكَ، فَلَا تَشْتُمْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّهُ يَكُونُ لَكَ أَجْرُهُ , وَعَلَيْهِ وِزْرُهُ» ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّ إِسْبَالَ الْإِزَارِ مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَلَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا " فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ أَحَدًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا
ترجمہ

راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: تم میں سے رسول اللہ ﷺ کون ہیں؟ تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اپنی طرف اشارہ کیا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں دیہاتی لوگوں میں سے ہوں اور مجھ میں ان کی سختی ہے، مجھے کوئی نصیحت فرمائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی نیکی کو ہرگز حقیر نہ سمجھو، خواہ یہ کہ تم اپنے بھائی سے کھلے چہرے کے ساتھ ملو، اور خواہ یہ کہ تم اپنے ڈول کا بچا ہوا پانی مانگنے والے کے برتن میں انڈیل دو، اور اگر کوئی شخص تمہیں وہ بات کہہ کر گالی دے جو تم میں واقعی ہے، تو تم اسے وہ بات کہہ کر گالی نہ دو جو تم اس کے بارے میں جانتے ہو، کیونکہ اس کا اجر تمہیں ملے گا اور اس کا گناہ اسی پر ہوگا۔“ اور تہبند لٹکانے سے بچو کیونکہ تہبند لٹکانا تکبر میں سے ہے، اور اللہ تکبر کو پسند نہیں فرماتا، اور کسی کو گالی مت دو۔ اس کے بعد میں نے کسی کو گالی نہیں دی، نہ کسی بکری کو اور نہ کسی اونٹ کو۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6355
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 64، حدیث 6385