المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سلمة المحبق الهذلي، واسم المحبق صخر من بني لحيان باب: سیدنا سلمہ محبق ہذلی رضی اللہ عنہ، محبق کا نام صخر تھا، بنو لحیان سے تعلق رکھتے تھے
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنِ الرَّجُلِ يَقَعُ بِجَارِيَةِ امْرَأَتِهِ؟ فَقَالَ: حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ بْنُ حُرَيْثٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَزَالُ يُسَافِرُ وَيَغْزُو، وَإِنَّ امْرَأَتَهُ بَعَثَتْ مَعَهُ جَارِيَةً لَهَا , قَالَتْ: تَغْسِلُ رَأْسَكَ، وَتَخْدِمُكَ، وَتَحَفَظُ رَحْلَكَ، وَلَمْ تَجْعَلْهَا لَهُ، وَإِنَّهُ طَالَ سَفَرُهُ فِي وَجْهِهِ ذَلِكَ، فَوَقَعَ بِالْجَارِيَةِ، فَلَمَّا قَفَلَ أَخْبَرَتِ الْجَارِيَةُ مَوْلَاتَهَا بِذَلِكَ، فَغَارَتْ غَيْرَةً شَدِيدَةً، وَغَضِبَتْ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعَ، فَقَالَ لَهَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَهِيَ عَتِيقَةٌ، وَعَلَيْهِ مِثْلُهَا، وَإِنْ كَانَ أَتَاهَا عَنْ طِيبَةِ نَفْسٍ فَهِيَ لَهُ، وَعَلَيْهِ مِثْلُ ثَمَنِهَا» وَلَمْ يُقِمْ فِيهِ حَدًّاسیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص مسلسل سفر اور جہاد میں رہتا تھا، اس کی بیوی نے اپنی ایک لونڈی اس کے ساتھ بھیجی اور کہا: یہ تمہارا سر دھوئے گی، تمہاری خدمت کرے گی اور تمہارے سامان کی حفاظت کرے گی، اور اس نے وہ لونڈی اسے (ملکیت میں) نہیں دی تھی۔ اس سفر میں اس کا قیام لمبا ہو گیا تو اس نے لونڈی سے مجامعت کر لی۔ جب وہ واپس آیا تو لونڈی نے اپنی مالکہ کو یہ بات بتا دی، تو اسے شدید غیرت آئی اور وہ غصے میں آ گئی، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپ کو وہ بات بتائی جو اس نے کی تھی، تو نبی اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اگر اس نے اسے زبردستی مجبور کیا تو وہ آزاد ہے، اور اس پر اس جیسی لونڈی لازم ہے، اور اگر وہ اس کی رضامندی سے اس کے پاس گیا تو وہ اسی کی ہے، اور اس پر اس کی قیمت کے برابر (ادائیگی) لازم ہے۔“ اور آپ ﷺ نے اس میں کوئی حد قائم نہیں کی۔