المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سلمة بن صخر البياضي الأنصاري باب: سیدنا سلمہ بن صخر بیاضی انصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامِ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ، قَالَ: كُنْتُ امْرَأً أَسْتَكْثِرُ مِنَ النِّسَاءِ , لَا أَرَى أَنَّ رَجُلًا كَانَ يُصِيبُ مِنْ ذَلِكَ أَكْثَرَ مِمَّا أُصِيبُ، فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي حَتَّى يَنْسَلِخَ رَمَضَانُ، فَبَيْنَمَا هِيَ تُحَدِّثُ لَيْلَةً، فَكُشِفَتْ لِي مِنْهَا شَيْءٌ، فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا، فَوَاقَعْتُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي، فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي، فَقُلْتُ لَهُمْ: سَلُوا لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: مَا كُنَّا لِنَفْعَلَ، إِذَنْ يَنْزِلُ فِينَا مِنَ اللهِ كِتَابٌ , أَوْ يَكُونُ فِينَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرٌ، فَيَبْقَى عَلَيْنَا عَارٌ، وَلَكِنْ سَوْفَ نُسْلِمُكَ بِجَرِيرَتِكَ، فَاذْهَبْ أَنْتَ وَاذْكُرْ شَأْنَكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُهُ، فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَنْتَ بِذَاكَ؟» قُلْتُ: وَأَنَا بِذَاكَ , وَهَا أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ صَابِرٌ لِحُكْمِ اللهِ عَلَيَّ، قَالَ: «فَأَعْتِقْ رَقَبَةً» ، قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ إِلَّا رَقَبَتِي، قَالَ: «فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا دَخَلَ عَلَيَّ الْبَلَاءُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ الصَّوْمِ، قَالَ: «فَتَصَدَّقْ، وَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا» قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ مَالَنَا مِنْ عَشَاءٍ , قَالَ: «فَاذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ، فَقُلْ لَهُ، فَلْيَدْفَعْ إِلَيْكَ، فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا، وَانْتَفِعْ بِبَقِيَّتِهَا»سیدنا سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایسا آدمی تھا جو عورتوں کی طرف بہت زیادہ رغبت رکھتا تھا، میرا خیال نہیں تھا کہ کوئی آدمی اس معاملے میں مجھ سے زیادہ حصہ پاتا ہو۔ جب رمضان آیا تو میں نے رمضان ختم ہونے تک اپنی بیوی سے ظِہار کر لیا، پھر ایک رات وہ باتیں کر رہی تھی کہ اس کے جسم کا کچھ حصہ میرے سامنے کھل گیا، تو میں اس پر جھپٹ پڑا اور اس سے مجامعت کر لی۔ جب صبح ہوئی تو میں اپنی قوم کے پاس گیا اور انہیں اپنا حال بتایا، اور ان سے کہا: میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے پوچھو۔ انہوں نے کہا: ہم ایسا نہیں کریں گے، کہیں ہمارے بارے میں اللہ کی طرف سے کوئی آیت نازل ہو جائے یا رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہمارے بارے میں کوئی حکم آ جائے اور ہم پر ہمیشہ کے لیے عار باقی رہ جائے، البتہ ہم تمہیں تمہارے جرم کے ساتھ تمہارے حوالے کرتے ہیں، تم خود جاؤ اور رسول اللہ ﷺ سے اپنا معاملہ بیان کرو۔ راوی کہتے ہیں: تو میں نکلا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس پہنچا اور یہ خبر بتائی، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے ہی یہ کیا؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، اور میں یا رسول اللہ! اللہ کے حکم پر صبر کرنے والا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”غلام آزاد کرو۔“ میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میری ملکیت میں سوائے میری اپنی جان کے کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لگاتار دو مہینے روزے رکھو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ مصیبت مجھ پر روزے ہی کی وجہ سے آئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو صدقہ کرو اور ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، ہم نے آج رات یوں گزاری کہ ہمارے پاس شام کا کھانا تک نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بنو زریق کے صدقے کے ذمہ دار کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ تمہیں دے دے، پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ اور باقی سے اپنا فائدہ اٹھاؤ۔“