المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سلمة بن صخر البياضي الأنصاري باب: سیدنا سلمہ بن صخر بیاضی انصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو عَامِرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، أَنَّ سَلْمَانَ بْنَ صَخْرٍ الْبَيَاضِيَّ جَعَلَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ كَظَهْرِ أُمِّهِ إِنْ غَشِيَهَا حَتَّى يَمْضِيَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا مَضَى النِّصْفُ مِنْ رَمَضَانَ سَمُنَتْ وَتَرَبَّعَتْ , فَأَعْجَبَتْهُُ، فَغَشَاهَا لَيْلًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: «أَعْتِقْ رَقَبَةً» , قَالَ: لَا أَجِدُ , قَالَ: «صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ» , قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ , قَالَ: «أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا» , قَالَ: لَا أَجِدُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ , أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ: «خُذْهَا فَتَصَدَّقْ بِهِ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا»سیدنا سلمان بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر اپنی ماں کی پشت کی طرح قرار دے دیا اگر وہ رمضان گزرنے تک اس کے پاس جائیں، پھر جب رمضان کا آدھا مہینہ گزر گیا تو وہ موٹی اور صحت مند ہو گئی، وہ انہیں پسند آئی، تو انہوں نے رات کو اس سے مجامعت کر لی، پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آ کر آپ سے اس بارے میں پوچھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”غلام آزاد کرو۔“ انہوں نے کہا: میرے پاس نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لگاتار دو مہینے روزے رکھو۔“ انہوں نے کہا: مجھ میں طاقت نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ انہوں نے کہا: میرے پاس نہیں ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک فَرَق لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں — یا سولہ صاع — تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ لے لو اور اسے ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کر دو۔“