المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
زيد بن عبد الرحمن، عن سلمة بن الأكوع باب: زید بن عبدالرحمن کی سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، ثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِ الْعَقِيقِ حَتَّى إِذَا كُنَّا عَلَى الثَّنِيَّةِ الَّتِي يُقَالُ لَهَا ثَنِيَّةُ الْحَوْضِ الَّتِي بِالْعَقِيقِ أَوْمَأَ بِيَدِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، فَقَالَ: " إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ عَدُوِّ اللهِ الْمَسِيحِ، إِنَّهُ يُقْبِلُ حَتَّى يَنْزِلَ مِنْ كَذَا حَتَّى يَخْرُجَ إِلَيْهِ غَوْغَاءُ النَّاسِ، مَا مِنْ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ أَوْ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهِ، مَعَهُ صُورَتَانِ: صُورَةُ الْجَنَّةِ , وَصُورَةُ النَّارِ حَمْرَاءُ، مَعَهُ شَيَاطِينُ يَتَشَبَّهُونَ بِالْأَمْوَاتِ، يَقُولُونَ لِلْحَيَّ: تَعْرِفُنِي؟ أَنَا أَخُوكَ، أَنَا أَبُوكَ، أَنَا ذُو قَرَابَةٍ مِنْكَ، أَلَسْتُ قَدْ مِتُّ؟ هَذَا رَبُّنَا فَاتَّبِعْهُ، فَيَقْضِي اللهُ مَا يَشَاءُ مِنْهُ، وَيَبْعَثُ اللهُ لَهُ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَيُسْكِتُهُ وَيُبَكِّتُهُ، فَيَقُولُ: هَذَا الْكَذَّابُ أَيُّهَا النَّاسُ، لَا يَغُرَّنَّكُمْ , فَإِنَّهُ كَذَّابٌ، وَيَقُولُ بَاطِلًا، وَلَيْسَ رَبُّكُمْ بِأَعْوَرَ، فَيَقُولُ: هَلْ أَنْتَ مُتَّبِعِي؟ فَيَأْبَى , فَيَشُقُّهُ شِقَّتَيْنِ، وَيُعْطَى ذَلِكَ , فَيَقُولُ: أُعِيدُهُ لَكُمْ، فَيَبْعَثُهُ اللهُ أَشَدَّ مَا كَانَ لَهُ تَكْذِيبًا , وَأَشَدَّهُ شَتْمًا، فَيَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ مَا رَأَيْتُمْ بَلَاءٌ ابْتُلِيتُمْ بِهِ , وَفِتْنَةٌ افْتُتِنْتُمْ بِهَا، إِنْ كَانَ صَادِقًا فَلْيُعِدْنِي مَرَّةً أُخْرَى، أَلَا هُوَ كَذَّابٌ , فَيَأْمُرُ بِهِ إِلَى هَذِهِ النَّارِ، وَهِيَ صُورَةُ الْجَنَّةِ، يَخْرُجُ قِبَلَ الشَّامِ "سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عقیق کی طرف سے آیا، یہاں تک کہ جب ہم اس گھاٹی پر پہنچے جسے ثنیۃ الحوض کہا جاتا ہے اور جو عقیق میں واقع ہے، تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”میں اللہ کے دشمن مسیح (دجال) کے مقامات کو دیکھ رہا ہوں، وہ آئے گا یہاں تک کہ فلاں جگہ اترے گا، پھر عام لوگوں کا ہجوم اس کی طرف نکلے گا، مدینہ کے کسی بھی راستے پر ایک یا دو فرشتے اس کی پہرہ داری کے لیے مقرر ہوں گے، اس کے ساتھ دو شکلیں ہوں گی: جنت کی شکل، اور جہنم کی شکل جو سرخ ہوگی، اس کے ساتھ شیاطین ہوں گے جو مُردوں کی صورت اختیار کریں گے، وہ زندہ سے کہیں گے: کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ میں تمہارا بھائی ہوں، میں تمہارا باپ ہوں، میں تمہارا رشتہ دار ہوں، کیا میں مرا نہیں تھا؟ یہ ہمارا رب ہے، اس کی پیروی کرو۔ تو اللہ جو چاہے گا اس کے بارے میں فیصلہ فرمائے گا، اور اللہ اس کے لیے مسلمانوں میں سے ایک شخص کو بھیجے گا، وہ اسے خاموش کرے گا اور اس کی سرزنش کرے گا اور کہے گا: اے لوگو! یہ جھوٹا ہے، یہ تمہیں دھوکا نہ دے، یہ جھوٹا ہے اور باطل بات کہتا ہے، اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ تو دجال پوچھے گا: کیا تم میری پیروی کرو گے؟ وہ انکار کرے گا، تو وہ اسے دو ٹکڑے کر دے گا، اور اسے یہی اختیار دیا جائے گا، پھر دجال کہے گا: میں اسے تمہارے سامنے دوبارہ زندہ کرتا ہوں۔ تو اللہ اسے زندہ کر دے گا جبکہ وہ دجال کے بارے میں اس کی سب سے زیادہ تکذیب کرنے والا اور اسے سب سے زیادہ برا کہنے والا ہوگا، وہ کہے گا: اے لوگو! تم نے جو دیکھا وہ ایک آزمائش ہے جس میں تمہیں ڈالا گیا ہے اور ایک فتنہ ہے جس میں تم مبتلا کیے گئے ہو، اگر یہ سچا ہے تو مجھے دوبارہ کر دکھائے۔ خبردار! یہ جھوٹا ہے۔ تو دجال اسے اسی آگ کی طرف بھیجنے کا حکم دے گا جو بظاہر جنت کی شکل میں ہوگی۔ پھر دجال شام کی طرف نکلے گا۔“