المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بريدة بن سفيان الأسلمي، عن سلمة باب: بریدہ بن سفیان اسلمی کی سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي بُرَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى الرَّايَةَ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، فَبَعَثَهُ إِلَى بَعْضِ حُصُونِ خَيْبَرَ، فَقَتَلَ، ثُمَّ رَجَعَ، وَلَمْ يَكُنْ فَتْحٌ، وَقَدْ جَهَدَ، فَقَالَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، يَفْتَحُ اللهُ عَلَى يَدَيْهِ، لَيْسَ بِفَرَّارٍ» فَدَعَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , وَهُوَ أَرْمَدُ، فَتَفَلَ فِي عَيْنَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «خُذْ هَذِهِ الرَّايَةَ، حَتَّى يَفْتَحَ اللهُ لَكَ» قَالَ سَلَمَةُ: " فَخَرَجَ وَاللهِ يُهَرْوِلُ هَرْوَلَةً، وَأَنَا خَلْفَهُ أَتَّبِعُ أَثَرَهُ، حَتَّى رَكَزَ الرَّايَةَ فِي رَضْمِ حِجَارَةٍ، فَاطَّلَعَ عَلَيْهِ يَهُودِيٌّ مِنْ رَأْسِ الْحِصْنِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ الْيَهُودِيُّ: غَلَبْتَهُمْ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى، فَمَا رَجَعَ حَتَّى فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ "
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى شِيرَانُ الرَّامَهُرْمُزِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا عَطَاءٌ مَوْلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ، وَيُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ» ، فَبَعَثَنِي نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيٍّ فَجِئْتُ بِهِ، وَكَانَ أَرْمَدَ فَتَفَلَ فِي عَيْنَيْهِ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ: «سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ فَمَا رَأَيْتُهُ يُصَلِّي بَعْدَ الْفَجْرِ , وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ قَطُّ»سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جھنڈا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیا، آپ نے انہیں خیبر کے ایک قلعے کی طرف بھیجا، انہوں نے کچھ لوگ قتل کیے، پھر واپس آ گئے اور فتح نہ ہوئی، جبکہ انہوں نے پوری کوشش کی تھی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کل یہ جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے، اللہ اس کے ہاتھوں فتح عطا فرمائے گا، وہ بھاگنے والا نہیں۔“ تو آپ ﷺ نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بلایا جبکہ ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں، آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا، پھر فرمایا: ”یہ جھنڈا لے لو، یہاں تک کہ اللہ تمہیں فتح عطا فرمائے۔“ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم، وہ تیزی سے چل پڑے اور میں ان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا، یہاں تک کہ انہوں نے جھنڈا پتھروں کے ایک ڈھیر میں گاڑ دیا، تو ایک یہودی نے قلعے کی چوٹی سے جھانک کر پوچھا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: میں علی بن ابی طالب ہوں۔ یہودی نے کہا: تم نے انہیں غلبہ دے دیا جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ واپس نہ آئے یہاں تک کہ اللہ نے ان کے ہاتھوں فتح عطا فرمائی۔
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں آج یہ جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جسے اللہ اور اس کا رسول محبوب رکھتے ہیں، اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔“ تو نبی اللہ ﷺ نے مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلانے بھیجا، میں انہیں لے آیا جبکہ ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں، تو آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا۔
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا، تو میں نے کبھی آپ ﷺ کو فجر کے بعد اور نہ عصر کے بعد کبھی نماز پڑھتے دیکھا۔