❮
❯
حدیث نمبر: 6267
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَزَّازُ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَسِرْنَا لَيْلًا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِعَامِرٍ: يَا عَامِرُ، أَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيَّاتِكَ، وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا، فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ، يَقُولُ:
[البحر الرجز]
اللهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا ... وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا
فَاغْفِرْ بِذَلِكَ مَا اقْتَضَيْنَا ... وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا
إِنَّ الْأُولَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا ... إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَتَيْنَا
وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ هَذَا السَّائِقُ؟» قَالُوا: عَامِرُ بْنُ الْأَكْوَعِ، قَالَ: «يَرْحَمُهُ اللهُ» ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَجَبَتْ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْ أَمْتَعْتَنَا بِهِ قَالَ: فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ، فَحَاصَرْنَاهُمْ حَتَّى أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ، ثُمَّ إِنَّ اللهَ فَتَحَهَا عَلَيْنَا، فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ مَسَاءَ الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ رَأَى قُدُورًا كَثِيرَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذِهِ النِّيرَانُ؟ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقِدُونَ؟» قَالُوا: عَلَى لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ: أَوْ نُهْرِيقَهَا؟ قَالَ: «أَوْ ذَاكَ» فَلَمَّا انْصَرَفَ الْقَوْمُ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ فِيهِ قِصَرٌ , فَتَنَاوَلَ سَاقَ يَهُودِيٍّ، فَضَرَبَهُ، وَتَرَجَّعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ، فَأَصَابَ رُكْبَةَ عَامِرٍ، فَمَاتَ مِنْهُ , فَحَزِنْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى مَا بِي: «مَا لَكَ؟» قُلْتُ لَهُ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ , قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَذَبُوا، مَنْ قَالَهُ؟ إِنَّ لَهُ الْأَجْرَ مَرَّتَيْنِ، إِنَّهُ جَاهَدٌ مُجَاهِدٌ»
ترجمہ

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے، ہم رات کو سفر کر رہے تھے، تو قوم میں سے ایک آدمی نے عامر سے کہا: اے عامر! کیا تم ہمیں اپنے کچھ اشعار نہیں سناؤ گے؟ اور عامر ایک شاعر آدمی تھے۔ چنانچہ وہ اترے اور قوم کو ہانکنے لگے، وہ کہہ رہے تھے: (بحر رجز میں) ”اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے۔ تو ہم سے جو کوتاہی ہوئی اسے بخش دے، اور اگر دشمن سے مقابلہ ہو تو ہمارے قدم جما دے۔ بے شک ان لوگوں نے ہم پر زیادتی کی، جب ہمیں پکارا جاتا ہے ہم آ جاتے ہیں، اور آواز دے کر انہوں نے ہمیں بلایا۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”یہ ہانکنے والا کون ہے؟“ لوگوں نے کہا: عامر بن اکوع۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس پر رحم فرمائے۔“ اس پر قوم میں سے ایک شخص نے کہا: (ان کے لیے شہادت) واجب ہو گئی، یا رسول اللہ! کاش آپ ہمیں ان سے زیادہ دیر فائدہ پہنچاتے۔ راوی کہتے ہیں: پھر ہم خیبر پہنچے اور ان کا محاصرہ کیا یہاں تک کہ ہمیں شدید بھوک کا سامنا کرنا پڑا، پھر اللہ نے اسے ہم پر فتح کروا دیا۔ جس دن فتح ہوئی اس کی شام کو لوگوں نے کئی ہانڈیاں پکتی دیکھیں، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”یہ آگیں کیسی ہیں؟ کس چیز پر پکایا جا رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: پالتو گدھوں کے گوشت پر۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ گوشت بہا دو اور ہانڈیاں توڑ دو۔“ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! یا (صرف) ہم اسے بہا دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بھی ٹھیک ہے۔“ جب لوگ واپس لوٹے تو عامر کی تلوار میں کچھ چھوٹا پن تھا، انہوں نے ایک یہودی کی پنڈلی پر وار کیا تو تلوار کی نوک پلٹ گئی اور عامر کے گھٹنے میں لگی، جس سے وہ فوت ہو گئے۔ مجھے اس پر غم ہوا، تو رسول اللہ ﷺ نے میری حالت دیکھ کر پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، لوگوں کا خیال ہے کہ عامر کا عمل ضائع ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے غلط کہا، یہ کس نے کہا؟ اسے تو دوہرا اجر ملے گا، وہ کوشش کرتے ہوئے مجاہد ہی تھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6267
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 32، حدیث 6294